.

'کرونا' کی وباء نے ایرانی پارلیمانی سرگرمیاں معطل کرڈالیں

ایرانی پارلیمنٹ کے 23 ارکان کرونا کا شکار،40 کا طبی معائنہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کےترجمان اسداللہ عباسی نے بتایا ہے کہ پارلیمںٹ کے 290 ارکان میں سے 23 ارکان نے کرونا وائرس کا شکارہوچکے ہیں جب کہ 40 ارکان کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ کرونا کا شکار ہونےوالوں میں شامل ہیں مگر ان کے بارے میں حتمی رپورٹ جاری نہیں کی گئی ہے۔

عباسی نے مزید کہا منگل کی شام پریس بیانات میں کہا گیا ہے کہ 40 دیگر ممبران پارلیمنٹ کو بھی کرونا انفیکشن ہونے کا شبہ ہے لیکن ان کے ٹیسٹوں کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا کی وجہ سے پارلیمنٹ کے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے معطل کردیئے جائیں گے۔

خیال رہے کہ ایرانی پارلیمنٹ (مجلس الشوریٰ) نے ایک ماہ قبل دو ارکان احمد امیر آبادی اور مجتبیٰ ذو النور کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کی تھی۔ اس کے بعد سے ایرانی پارلیمنٹ کا کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا جاسکا۔

فروری انتخابات کے دوران اگلی پارلیمنٹ میں داخل ہونے کے لیے منتخب ہونے والے دو نئے عہدے ارکان فاطمہ رہبر اور محمد علی رمضانی کرونا سے متاثر ہونے کے چند دن بعد فوت ہوگئےتھے۔

پیر کے روز پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی کو لکھے گئے مکتوب میں اصلاح پسند "امید" بلاک سے تعلق رکھنے والے 42 قانون سازوں نے پارلیمنٹ کی بندش کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے تمام ارکان پارلیمنٹ کی صحت اور سلامتی یقینی بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ ایران میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 3036 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 47 ہزار 593 افراد کرونا کے مریض ہیں جب کہ بعض دوسرے ذرائع ہلاکتوں کی تعداد چھ ہزار اور متاثرین کی ایک لاکھ سے زیادہ بیان کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں