قاسم سلیمانی کے جانشین اسماعیل قآنی کا پہلا دورہ عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک ایسے وقت میں جب عراق کی سیاسی جماعتیں نئی حکومت کی تشکیل میں ناکام ہیں ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی سمندر پار آپریشنل کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس المعروف فیلق القدس کے نئے سربراہ بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قآنی رواں ہفتے بغداد پہنچے۔ اسماعیل قآنی نے قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد القدس بریگیڈ کا چارج سنبھالا تھا۔

عراقی عہدیداروں کے مطابق 'فیلق القدس' کے سربراہ اسماعیل قآنی سوموار کی شام کو بغداد پہنچے تھے۔ تین جنوری کو بغداد میں امریکا کی ایک فضائی کارروائی میں امریکی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد تنظیم کے نئے منتخب ہونے والے سربراہ قآنی کا یہ پہلا علانیہ دورہ بغداد ہے۔ قآنی ایک ایسے وقت میں بغداد پہنچے جب وہاں پر کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈائون اور کرفیو تھا۔ عراق میں کرونا کی وجہ سے اندرون اور بیرون ملک فضائی سروس بھی معطل ہے مگر اس کے باوجود اسماعیل قآنی کو بغداد ہوائی اڈے پر پورا پروٹوکول دیا گیا۔

تین جنوری 2020ء کو امریکا نے فیلق القدس کے سربراہ کماندر قاسم سلیمانی کو بغداد میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کردیا تھا۔ اس کارروائی میں عراق کی الحشد الشعبی ملیشیا کے نائب سربراہ مہدی المہندس اور کئی دوسرے جنگجو کمانڈر ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے نے نہ صرف ایران اور امریکا کو جنگ کے دھانے پرلا کھڑا کیا تھا بلکہ بغداد اور واشنگٹن کے درمیان بھی کشیدگی پیدا کردی تھی۔ عراقی حکومت نے امریکا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عراق سے نکل جائے۔

ذرائع کے مطابق بریگیڈیئر جنرل قآنی نے سوموار کو بغداد ہوائی اڈے پراترے تو وہاں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد تین بلٹ پروف گاڑیوں میں قآنی کو وہاں سے محفوظ مقامات پر لے جایا گیا۔اس موقع پر قآنی کا استقبال کرنے والوں میں الحکمہ تحریک کے سربراہ عمار الحکیم اور ھادی العامری موجود تھے جب کہ قآنی عراقی صدر برھم صالح سے بھی ملاقات کریں گے۔

قآنی کا پہلا امتحان

عراقی عہدیدار یہ شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ قآنی میں عراق کے منقسم سیاسی دھاروں کو باہم ملانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو وہ عربی زبان سے نابلد ہیں اور دوسرا ان کے عراق کی اہم شخصیات کے ساتھ اس درجے کے تعلقات نہیں جیسا کہ قاسم سلیمانی کے تھے۔

عراق کے ایک شیعہ سیاسی رہ نما نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے 'اے پی' کو بتایا کہ بریگیڈیئر جنرل قآنی کا یہ پہلا امتحان ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ عراق میں سیاسی دھڑوں میں پائے جانے والے اختلافات کو اپنے پیش رو مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کی طرح دور کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں یا نہیں۔

عراق کے نو منتخب وزیراعظم عدنان الزرفی کو ملک کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ وہ ابھی تک اپنی کابینہ تشکیل نہیں دے سکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں