بغاوت اور ایران کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کا الزام ، 32 حوثی رہ نماؤں کے خلاف مقدمہ
یمن کے عارضی دارالحکومت عدن میں فوجداری عدالت نے حوثی ملیشیا کے 32 رہ نماؤں کے خلاف مقدمے کی پہلی سماعت کا آغاز کیا۔ ان تمام افراد پر 2014 میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام ہے۔
ان رہ نماؤں میں حوثی ملیشیا کا سرغنہ عبدالملک الحوثی، حوثی باغیوں کی بین الاقوامی سطح پر غیر تسلیم شدہ حکومت کا سربراہ عبد العزيز بن حبتور اور حوثی ملیشیا میں اعلی سطح کی عسکری اور سیاسی قیادت شامل ہے۔
فوجداری سے متعلق استغاثہ نے عدالت میں 32 حوثی رہ نماؤں کے خلاف باقاعدہ الزامات کی درخواست پیش کی۔ ان الزامات میں جمہوری حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کا ارتکاب، آئینی صدر کا محاصرہ اور ان کو طیارے کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش، پارلیمنٹ کی تحلیل، فوج اور سیکورٹی فورسز کے ساز و سامان کو ہتھیانا، ریاست کے اداروں پر قبضہ، شہروں پر مسلح دھاوا، ایک غیر ملکی ریاست کے مفاد میں مخبری انجام دینا تا کہ جمہوریہ یمن کے حربی، سیاسی، سفارتی اور اقتصادی محور کو نشانہ بنایا جا سکے اور خطے میں مذکورہ غیر ملکی ریاست کے نفوذ کو پھیلانا شامل ہے۔
اسی طرح استغاثہ نے حوثیوں کی قیادت پر قتل، اغوا، شہریوں پر تشدد، شہریوں کے گھروں کو دھماکوں سے اڑانے اور مرکزی بینک کے مالی ذخائر کو لُوٹنے کے جرائم کے ارتکاب کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق ان حوثی رہ نماؤں نے ایک غیر ملکی ریاست کے ساتھ سمجھوتے کیے اور اپنے تعلقات استوار کیے۔ یہ ریاست ایران ہے اور اس کا مقصد جمہوریہ یمن کو اپنے آگے جھکانا اور یمن کی خود مختاری اور سیادت کی دھجیاں اڑانا ہے۔
استغاثہ نے اپنی پٹیشن میں عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ملزمان کے عدالتی کارروائی سے مفرور ہونے کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف شرعی اور قانونی طور سے مقررہ سزاؤں کا فیصلہ صادر کرے۔
مقدمے کی پہلی سماعت کے اختتام پر عدالت نے اعلان کیا کہ ملزمان کو آئندہ سماعت کے موقع پر موجود ہونے کا پابند کیا جائے۔ آئندہ سماعت یکم جولائی 2020 کو ہو گی۔