بغداد میں امریکی سفارت خانے کا فضائی منظر، عراقی گروپ کی انتقام کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے بالخصوص عراق کی سرزمین پر اس کے گہرے بادل نظر آ رہے ہیں۔ ایسا نظر آتا ہے کہ ایرانی القدس فورس کے نئے سربراہ اسماعیل قآنی کے رواں ہفتے بغداد کے دورے نے بعض ایران نواز گروپوں میں پھر سے جوش و جذبہ بھر دیا ہے۔

حالیہ عرصے میں نمودار ہونے والے مسلح گروپ عصبۃ الثائرین نے گذشتہ شام ایک وڈیو میں پیغام دیا ہے کہ عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانہ اس کی نظروں میں ہے۔ گروپ نے ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں امریکی سفارت خانے کا فضائی منظر دکھایا گیا ہے۔ ساتھ ہی دھمکی بھی دی گئی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کا انتقام لیا جائے گا۔ دونوں افراد جنوری کے پہلے ہفتے میں بغداد ہوائی اڈے پر امریکی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز اپنی ایک ٹویٹ میں کہہ چکے ہیں کہ "معلومات اور حقائق سے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ ایران یا اس کے ایجنٹس یا پھر دونوں مل کر عراق میں امریکی افواج یا تنصیبات پر اچانک حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ایران کو بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی!"۔

ادھر ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ ایران امریکی نقل و حرکت کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہا ہے۔ ساتھ ہی باقری نے عراق میں امریکی اڈوں پر حملے کے ساتھ ایران کے تعلق کی تردید بھی کی۔

دوسری جانب عراق میں کئی حلقوں کو تشویش ہے کہ ایران نواز گروپوں کی جانب سے ناعاقبت اندیشی پر مبنی کسی بھی کارروائی کی صورت میں عراق میں فریقین کے درمیان میدان جنگ گرم ہو سکتا ہے۔

اسی حوالے سے اسٹریٹجک تجزیہ کار غانم العابد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ایران نواز ملیشیاؤں کے بعض رہ نماؤں کی جانب سے جارحانہ زبان پر مبنی بیانات کے سبب مذکورہ میدان جنگ کا گرم ہونا خارج از امکان نہیں۔

القائم، موصل اور کرکوک میں بعض اڈوں سے امریکی فوج کے انخلا اور دیگر اڈوں پر پیٹریاٹ میزائل نظام کی تنصیب کے حوالے سے العابد نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ایران نواز ملیشیاؤں کے ساتھ مسلح تصادم میں پڑنا نہیں ہے۔ یہ صرف اُن عسکری اڈوں کے تحفظ کے لیے ہیں جہاں امریکی فوجیوں کی نئی تعیناتی عمل میں آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں