تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد قطر کو 5 ارب ڈالر کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد خلیجی ریاست قطر سب سے بڑے اور اہم ذریعہ آمدن سے محروم ہو گئی ہے اور ادارے چلانے کے لیے قطری حکومت کو دوسرے ذرائع سے کم سے کم پانچ ارب ڈالر کی مالی مدد درکار ہے۔

تیل اور گیس کی برآمد پر انحصار کرنے والے قطرنے اہم سپلائر کے طور پر سرمایہ کار بینکوں کو اگلے ہفتے کے اوائل میں 5 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ تاکہ کرونا کی وبا اور تیل کی کم قیمتوں سے نمٹنے کے لیے ان بانڈز سے مالی مدد لی جاسکے۔

'بلومبرگ' ایجنسی کے باخبر ذرائع کے مطابق قطر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ ، جی بی مورگن ، بارکلیز اور ڈوئچے بینک کے ذریعہ مدد لینے کی کوشش کررہا ہے۔

قطر نے اس رقم کو تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد اس کی لیکویڈیٹی برقرار رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرنے سے قطر کی آمدنی کم ہوئی جب کی گذشتہ ماہ گیس کی قیمتوں میں 50 فی صد کمی نے دوحا کی مالی مشکلات اور بڑھا دی تھیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اس پیش کش کی ابھی کوئی خاص تاریخ نہیں بتائی گئی۔ تاہم قطر مارکیٹ کے حالات کے پیش نظر بانڈز فروخت کرنے سے انکار کرسکتا ہے۔

ٹیلیمیر کمپنی کے اسٹریٹیجک ڈائریکٹر حسنین مالک نےکہا کہ قطر کے پاس ایک بڑا خودمختار فنڈ ہے لیکن اس کے بیشتر اثاثے مائع نہیں ہیں ، اور اس کی سرکاری ذیلی تنظیمیں اہم ذمہ داریاں نبھاتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں