.

ایرانی عالم دین کا امریکا اور یورپ میں انسداد کرونا مراکز قائم کرنے کی صلاحیت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں وزراء اور حکومتی عہدیدار ایک طرف بار بار امریکی پابندیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ اعتراف کرتے ہیں کہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران میں کرونا کی وباء کو کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جب کہ ایران میں ایسے خوش خیال لوگ بھی موجود ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب امریکا اور یورپ کو انسداد کرونا مہم میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کے فارس صوبے کے ممسنی شہر کے ایک سرکردہ شیعہ رہ نما اور شہر کی جامع مسجد کے امام حسین شاکری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسداران انقلاب امریکا اور ایران میں 'انسداد کرونا' مراکز قائم کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاسداران انقلاب کے ہیڈ کواٹر میں ایک تقریب سے خطاب میں حسین شاکری نے کہا کہ اگر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای اجازت دیں تو پاسداران انقلاب امریکا، فرانس، اٹلی اور لندن میں انسداد کرونا مراکز قائم کر سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سپریم لیڈر اجازت دیں تو ہم امریکا اور یورپ میں' لبیک یا خامنہ ای' کے عنوان سے صحت کے مراکز قائم کر سکتے ہیں۔

حسین شاکری کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف امریکا اور یورپ پر تہران پر عاید کردہ پابندیوں کی وجہ سے سخت تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت کرونا کی وباء سے نمٹنے میں اس لیے مشکل میں ہے کیونکہ امریکا نے ایران پر بے جا اقتصادی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ تاہم ایرانی عہدیداروں کے موقف اور بیانات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ ایرانی صدر نے ایک دوسرے بیان میں کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران 'کوویڈ ۔ 19' کے خلاف کامیابی سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔