.

میت کو غسل دینے سے کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے: وزارت صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان محمد العبد العالی نے ہفتے کے روز بتایا کہ مملکت میں کرونا کے مزید 140 کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد کل متاثرہ افراد کی تعداد 2179 ہوگئی ہے۔ ان میں 1730 کو معمولی نوعیت کی بیماری ہے۔

کرونا کے حوالے سے روزانہ کی بریفنگ کے دوران وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اب تک کرونا سے 29 افراد ہلاک اور 420 صحت یاب ہوئےہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کرونا سے متعلق افواہوں پرنہیں بلکہ مصدقہ سرکاری معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔

میت کو غسل دینے کے بارے میں موقف

سعودی وزارت صحت کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ آیا کرونا کی وباء سے فوت ہونےوالے افراد کی میتوں کو غسل دینے سے یہ بیماری مزید پھیل سکتی ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میت کی تدفین تک تمام مراحل عزت واحترام کے ساتھ انجام دیے جانے چاہئیں۔ تاہم مردے کو میت دینے کا عمل پیشہ ور افراد کو کرنا چاہیے چاہے وہ محکمہ صحت کے اہلکار ہوں یا دوسرے افراد ہوں۔ بیماری پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر میت کو غسل دینے والے افراد کو تمام تر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا چاہیے۔ یہ احتمال موجود ہے کہ میت سے غسل اور تدفین کے وقت وائرس دوسرے لوگوں تک منتقل ہوسکتا ہے۔

قبل ازیں سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے جدہ شہر کی 7 کالونیوں میں مزید چوبیس گھنے کے لیے کرفیو کا دورانیہ بڑھا دیا تھا۔