.

نامعلوم مسلح افراد نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کا عہدیدار ہلاک کر دیا: فارس نیوز ایجنسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی نیم سرکاری ‘فارس‘ نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے اتوار کی صبح جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے رہنما محمد علی یونس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’فارس‘‘ کے مطابق یونس کی ہلاکت سے متعلق مزید کوئی تفصیل نہیں مل سکی۔ تاہم غیر سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مقتول بلدیہ جبشیت میں حزب اللہ کا رہنما تھا اور اس کا کام ’’ایجنٹوں اور جاسوسوں‘‘ کا پیچھا کرنا تھا۔

یونس کی لاش ہفتے کے روز ظہر کے بعد ایک کار میں ملی۔ گاڑی قاقعیہ بل اور زوطر الغربیہ میونسپلٹیز کو ملانے والی شاہراہ کے کنارے کھڑی تھی جبکہ یونس کے جسم پر گولیوں اور چھریوں سے وار کے نشانات تھے۔

جائے حادثہ پر مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں کی پیڑولنگ پارٹیاں تفتیش کے لیے آتی رہیں جنہوں نے ’’ع۔ف۔ا‘‘ نامی شخص کو یونس کے قتل کے شبہے میں حراست میں لیا۔

بعد ازاں حزب اللہ نے یونس کے قتل پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے تنظیم کے ’شہداء‘‘ کی صفوں میں نیا اضافہ قرار دیا۔ اس سے ایک خدشے کو تقویت ملی جس میں کہا گیا ہے کہ یونس کے قتل کا پس منظر مرحوم کے تنظیم میں سیکیورٹی امور سے ملتا ہے۔ یہ بات زبان زدعام تھی کہ یونس حزب اللہ کے اس ونگ سے تعلق رکھتا ہے جو ایجنٹوں کا پیچھا کرنے کا ذمہ دار تھا۔ سوشل میڈیا پر قتل کے پس منظر سے متعلق کہانیوں میں بھی یہی موقف نمایاں دکھائی دیتا ہے۔