.

سعودی عرب : بیرون ملک سے واپس آنے والے شہریوں کے لیے ہوٹلوں کے 11 ہزار کمرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ بیرون ملک سے واپس لوٹنے والے شہریوں کی میزبانی کے لیے ہوٹلوں کے 11 ہزار کمرے تیار کر لیے گئے ہیں۔ یہ اقدام مملکت کی قیادت کی جانب سے جاری ہدایات کے سلسلے میں ہے۔ اس کا مقصد کرونا کی عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کی صورت حال میں مملکت میں اور بیرون ملک سعودی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایک اعلان میں بتایا کہ واپسی کی درخواستیں ویب سائٹ کے ذریعے وصول کی جائیں گی۔ مملکت واپسی کے لیے بیرون ملک موجود شہریوں کے سفر کی تاریخ اور وقت کا تعین وزارت خارجہ کرے گی۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے تحفظ کے مقصد سے دنیا کے ممالک نے جن میں سعودی عرب شامل تھا ،،، فضائی پروازیں معطل کر دیں۔

ادھر سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے چیئرمین انجینئر صالح بن ناصر الجاسر نے باور کرایا ہے کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سول ایوی ایشن کا ادارہ تمام متعلقہ حکومتی اداروں کے تعاون سے اُن سعودی شہریوں کی واپسی کے انتظامات کے لیے کام کر رہا ہے جو مملکت لوٹنے کے خواہش مند ہیں۔ الجاسر نے ایک اخبار بیان میں بتایا کہ یہ اقدام اُن فیصلوں کی ایک کڑی ہے جن کا مقصد کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روشنی میں مملکت کے اندر یا بیرون مملکت سعودی مرد اور خواتین شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

الجاسر نے بتایا کہ مملکت واپسی کے خواہش مند شہریوں کے استقبال کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے تمام تر کوششوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مسافروں کے لاؤنجز میں تیاری کر لی گئی ہے۔ اتھارٹی اب سعودی شہریوں کی واپسی کے لیے فضائی پروازوں کا شیڈول بنا رہی ہے۔

الجاسر نے باور کرایا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی وزارت صحت کے تعاون سے کرونا وائرس کے حوالے سے بچاؤ اور احتیاط کی تمام تر تدابیر اختیار کرے گی۔