.

لیبیا میں شامی اجرتی جنگجوؤں کی ہلاکتوں میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں ایک جنگجو کی جانب سے جاری کی جانے والی سیلفی سے انکشاف ہوا ہے کہ دارالحکومت طرابلس میں شامی اجرتی قاتلوں اب بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ تصویر میں 100 سے زیادہ مسلح اجرتی قاتل اور متعدد فوجی گاڑیاں طرابلس کے ایک محاذ پر نظر آ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سماجی کارکنان نے بتایا ہے کہ یہ دارالحکومت کے جنوب میں السدرہ کا محاذ ہے۔

ادھر انسانی حقوق کے شامی نگراں گروپ المرصد نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا کی اراضی میں مختلف محاذوں پر لیبیائی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ترکی کے حمایت یافتہ گروپوں کے 9 جنگجو ہلاک ہو گئے۔ اس طرح لیبیا میں فوجی کارروائیوں میں ترکی نواز گروپوں کے مارے جانے والے جنگجوؤں کی تعداد 165 ہو چکی ہے۔

دوسری جانب لیبیا جانے والے شامی جنگجوؤں میں غصے اور ناراضی کی لہر کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا سبب ترکی کا اپنے وعدوں کو پورا نہ کرنا ہے جس نے ان جنگجوؤں سے کہا تھا کہ انہیں ماہانہ 2 ہزار امریکی ڈالر تنخواہ دی جائے گی۔

لیبیا میں ایک جنگجو نے اپنی آڈیو ریکارڈنگ میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ تمام جنگجو لیبیا آنے پر نادم ہیں۔ جنگجو نے لیبیا آنے کے خواہش مند افراد سے کہا کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے لیں کیوں کہ صورت حال مطلقا اچھی نہیں ہے ... اور ترک حکام ماہانہ 2 ہزار ڈالر کی ادائیگی کے وعدے سے پِھر گئے ہیں۔

مذکورہ جنگجو کا کہنا تھا کہ "ترکی نے ہمیں محض ایک ماہ کی تنخواہ ادا کی۔ اس کے بعد سے ہمیں کچھ نہیں دیا گیا۔ ہم گھروں میں رہتے ہیں اور اکثر اوقات ہمیں سگریٹس بھی دستیاب نہیں ہوتے۔ ہم گھروں سے باہر نہیں جا سکتے اس لیے کہ علاقہ لیبیا کی فوج کے گروپوں سے بھرا ہوا ہے ... ہم سب ہی شام واپس لوٹنا چاہتے ہیں۔ ایسے جنگجو بھی ہیں جو کھیپوں کی صورت میں فیلق الشام گروپ کے ذریعے واپسی کی تیاری کر رہے ہیں"۔