.

حوثی باغیوں کا خواتین کی جیل پرحملہ ،یمنی حکومت کی 'یو این' ایلچی کے مؤقف پرکڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھس کے تعز میں خواتین کی جیل پر حوثی باغیوں کے وحشیانہ حملے کے بارے میں اختیار کردہ مؤقف پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ یمنی حکومت کا کہناہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی حوثیوں کے وحشیانہ جرائم پرآنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ایک بیان میں کہا کہ مارٹن گریفیتھس کا تعز میں خواتین کی جیل پر حوثیوں کے وحشیانہ حملے پر موقف ناقابل قبول ہے۔ وہ حوثیوں کے جنگی جرائم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

یمنی حکومت نے حوثیوں کی طرف سے جیل پرحملے اور خواتین قیدیوں کے قتل عام کو مجرمانہ دہشت گردی اور سنگین جنگی جرم قرار دیا ہے۔ یمنی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ تعز میں واقع جیل میں خواتین قیدیوں کے قتل عام پرخاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی طرف سے اس وحشیانہ فعل پرخاموشی حوثیوں کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز حوثی ملیشیا نے جنوب مغربی یمن میں قائم سینٹرل جیل میں خواتین کے لیے مختص عمارت پر وحشیانہ گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں جیل میں موجود پانچ خواتین قیدی جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئی تھیوں۔ زخمیوں میں سے تین کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

یمنی وزیر اطلاعات نے اقوام متحدہ کے ایلچی سے مطالبہ کیا کہ حوثیوں کےجنگی جرائم پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے خود تعز کا دورہ کریں اورحملے کا نشانہ بننے والی جیل اور اس میں خواتین قیدیوں کے قتل کے مناظراپنی آنکھوں سے دیکھیں۔