.

سعودی عرب کے زیر قیادت اتحاد کا یمن میں فائر بندی کا فیصلہ دانش مندانہ ہے : قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے سعودی عرب کے زیر قیادت عرب اتحاد کی جانب سے یمن میں دو ہفتوں کے لیے فائر بندی کو ایک دانش مندانہ اور ذمے دارانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔

مذکورہ عرب اتحاد یمن میں آئینی حکومت کا حامی ہے۔

جمعرات کے روز اپنی ٹویٹ میں قرقاش نے کہا کہ "سیاسی حل کے لیے بار بار سامنے آنے والی آوازوں کے بیچ کرونا وائرس کے حوالے سے اندیشے نمایاں ہو رہے ہیں۔ اس سے فی الوقت جاری انسانی بحران پیچیدہ ہو جائے گا"۔

اماراتی وزیر کے مطابق یہ ایک اہم فیصلہ ہے جو انسانی اور سیاسی بنیادوں پر ناگزیر تھا۔

واضح رہے کہ یمن میں جنگ بندی کا اعلان کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بدھ کے روز بتایا کہ یمن میں جنگ بندی کا آغاز بدھ اور جعمرات کی درمیانی شب 12 بجے ہو گا۔ یہ جنگ بندی دو ہفتوں تک جاری رہے گی۔ جنگ بندی میں حالات کے پیش نظر توسیع کی جا سکتی ہے۔ المالکی نے کہا کہ جنگ بندی صرف یمنی قوم کے لیے کی گئی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یمن میں حوثی باغی بھی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کریں گے۔