.

شام : M4 موٹر وے پر مظاہرین کا ترک اور روسی فوجی دستوں پر پتھراؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں "M4" کے نام سے معروف موٹر وے پر دھرنا دینے والے مقامی شہریوں نے بدھ کے روز وہاں روسی اور ترکی افواج کے مشترکہ دستے کو گشت کرنے سے روک دیا۔ یہ موٹر وے شام کے صوبے لاذقیہ کو شمالی صبوے حلب سے ملاتا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق ترنبہ گاؤں کی سمت سے آنے والا روسی دستہ النیرب کے علاقے کے نزدیک پہنچا تو احتجاج کرنے والے مظاہرین نے اس پر پتھراؤ کیا۔ اس کے نتیجے میں دستے نے اپنا روٹ مختصر کرتے ہوئے ادلب کے مشرق میں واقع سراقب شہر کی جانب واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ اسی دوران ترکی کی اسپیشل فورسز کے درجنوں ارکان اس شاہ راہ پر پھیل گئے۔

واضح رہے کہ روس اور ترکی کی افواج نے گذشتہ ماہ مارچ کے وسط سے "M4" بین الاقوامی موٹر وے کی ایک جانب گشت کا آغاز کیا تھا۔ یہ اقدام مغربی شام میں واقع ادلب کے علاقے میں فائر بندی کے سمجھوتے پر عمل درامد یقینی بنانے کے سلسلے میں تھا۔

مذکورہ M4 موٹر وے کی اہمیت یہ ہے کہ وہ لاذقیہ کو حلب سے ملاتا ہے۔ اس بات کی توقع کی جا رہی تھی کہ مشترکہ دستوں کے گشت سے موٹر وے پر شہریوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنائی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ ادلب میں عسکری جھڑپوں کے دوبارہ آغاز کو روکا جا سکے گا۔ اس طرح شامی فوج کی ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا مسلح گروپوں کے ساتھ جارحیت میں کمی ہو گی۔

گذشتہ ماہ 5 مارچ کو روسی صدر ولادی میر پوتین اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن متعدد فیصلوں تک پہنچنے۔ اس کا مقصد ادلب میں کشیدگی کو روکنا تھا۔ ان فیصلوں میں علاقے میں فائر بندی کا اعلان اور "M4" راستے کے متعین مقامات پر "محفوظ گذر گاہ" کا قیام شامل ہے۔

روس اور ترکی نے انقرہ میں ہونے والے عسکری مذاکرات کے نتیجے میں مذکورہ منصوبے پر عمل درامد کے حوالے سے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے۔ ماسکو کے مطابق یہ سمجھوتا اس بات کی اجازت دے گا کہ ادلب کے حوالے سے فریقین کے بیچ رابطہ کاری کے ذریعے سامنے آنے والے فیصلوں کو لاگو کیا جا سکے