.

کرونا کے پیش نظر رمضان میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگ سکتی ہے : خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر رمضان مبارک کے دوران ملک میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

جمعرات کے روز خامنہ ای کا یہ بیان ایسے قت میں سامنے آیا ہے جب ایران دنیا بھر میں اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کا بدترین صورت میں شکار ہونے کے بعد اپنی اقتصادی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کی کوششوں میں مصروف ہے۔

ایرانی رہبر اعلی کے مطابق "نماز اور خطبوں سمیت رمضان مبارک میں عوامی اجتماعات کے سے محروم ہونے کی صورت میں ہمیں چاہیے کہ اپنی یک جہتی میں اسی احساس کو پیدا کریں"۔

ایرانی ذمے داران اعلانیہ طور پر ابھی تک رمضان کے لیے کسی منصوبے کو زیر بحث نہیں لائے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے مقصد سے ملک کو ایک ماہ کے لیے لاک ڈاؤن کرنے کے ہنگامی قانونی بل کو مسترد کر چکی ہے۔

منگل کے روز ایرانی سال نو میں پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے دوران اس قانونی بل کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا۔ اس لیے کہ ارکان کی اکثریت کا نقطہ نظر ہے کہ یہ "آئین کو سبوتاژ" کرتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ میں 80 ارکان نے اس بل کی تجویز کی تائید کی۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ حسین زادہ کے مطابق ایوان کے پاس صرف 70 روز ہیں تا کہ وہ کرونا کے پھیلاؤ کے سلسلے میں کچھ کر لے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن پر موافقت اور اس پر فوری عمل درامد سامنے آئی تو اس تحریک کے ذریعے انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔