.

ایران میں کرونا کی وجہ سے احتجاج کرنے والے قیدیوں کے قتل عام کا خدشہ

ایمنسٹی کا ایرانی جیلوں میں قیدیوں سے ناروا سلوک کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے حال ہی میں ایران کی جیلوں میں کرونا کی وباء پھیلنے کے بعد قیدیوں کے احتجاج کو روکنے کے لیے ایرانی پولیس اور پاسدارا انقلاب نے طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 36 قیدیوں کے مارے جانے کا اندیشہ ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران ایران کی 8 جیلوں میں ہزاروں قیدیوں نے اس وقت انتظامیہ کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا جب جیلوں میں کرونا پھیلنےسے متعدد قیدی ہلاک ہوگئے تھے۔

ایرانی پاسداران انقلاب اور پولیس نے جیلوں میں احتجاج کچلنے کے لیے طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا جس کے نتیجے میں درجنوں قیدی ہلاک یا زخمی ہوگئے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقا ڈیانا الطحاوی نے ایک بیان میں ایران میں قیدیوں پر سیکیورٹی فورسز کے تشدد کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کرونا سے پریشان قیدیوں پر تشدد شرمناک اقدام ہے۔ قیدیوں کو اپنے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے اور ایران طاقت کے ذریعے ان کی زبان بند نہیں کراسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں کرونا کی وجہ سے احتجاج کرنے والے قیدیوں پر تشدد، ان کے قتل عام اور جیلوں میں ان کے ساتھ ناروا سلوک کی عالمی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے۔

ایمنسٹی نے اپنے آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں گرفتار کیے گئے تمام قیدیوں کو فوری طور رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایمسنٹی کا کہنا ہے کہ ایران کی سبیدار اور شیبان جیلوں میں 30 اور 31 مارچ کو کرونا پھپلنے کے بعد قیدیوں نے احتجاج شروع کیا تھا۔ ایرانی پولیس اور پاسداران انقلاب کی طرف سے احتجاج روکنے کے لیےقیدیوں پربراہ راست فائرنگ کی گئی اور بعد ازاں قیدیوں کو غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ عرب اکثریتی ایرانی صوبے الاھواز سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو خاص طورپر جیلوں میں ناروا سلوک کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں