ایران: کرونا کی روک تھام کے لیے عوام مالی رقوم فراہم کرنے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں پاسداران انقلاب کے زیر انتظام باسیج فورس کے مراکز نے مختلف عنوانات کے تحت مالی رقوم جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ پیش رفت ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے بیان کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کرونا کی روک تھام کے لیے مالی امداد کا ایک حصہ خود لوگوں کی طرف سے فراہم کیا جائے۔

ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک کی عربی ویب سائٹ کے مطابق حال ہی میں ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں اصفہان میں باسیج کا "وازيجہ" مرکز رات کے وقت لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے مالی امداد کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مطالبے میں بتایا گیا کہ یہ مالی رقوم راستوں کو جراثیم سے پاک کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کے واسطے استعمال کی جائیں گی۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ خامنہ ای نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ایران میں ترقیاتی فنڈ سے ایک ارب یورو نکالنے کی منظوری دے دی ہے۔

ایران انٹرنیشنل کی عربی ویب سائٹ نے جمعرات کے روز ٹویٹر پر بتایا تھا کہ ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ "اگر کرونا وائرس کے سبب دس لاکھ افراد بھی موت کے منہ میں چلے جائیں تو ہم اپنی معیشت کی صورت حال کے سبب ملکی سرگرمیاں معطل نہیں کریں گے"۔ روحانی نے یہ بات منگل کے روز قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی۔

بدھ کے روز ایرانی کابینہ کے اجلاس کے بعد بیان میں روحانی نے کہا کہ 11 اپریل سے ان کا ملک کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں دوسرے مرحلے میں منتقل ہو جائے گا۔

ایرانی وزارت صحت نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ کرونا وائرس کے 1634 نئے کیسوں کا اندراج ہوا ہے۔ اس طرح ملک میں اب تک کرونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 66220 ہو گئی ہے۔

وزارت صحت نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید 117 مریض چل بسے۔ ایران میں اس وبائی مرض کے سبب جان سے ہاتھ دھونے والے افراد کی مجموعی تعداد 4110 تک پہنچ چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں