.

ایران: کرونا کے مقابلے پر "زہریلی شراب" کی وبا سیکڑوں افراد کو نگل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اس وقت پوری طرح کرونا وائرس کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ تاہم ایک اور "وائرس" ہے جس نے لوگوں کو موت کی نیند سلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ وائرس دراصل زہریلی شراب کا عفریت ہے۔ رواں سال 19 فروری کو ایران میں کرونا وائرس کے سبب پہلی وفات کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک زہریلی شراب پینے سے 728 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ 3000 زہر خوانی میں مبتلا ہوئے۔ لوگوں کے اندر یہ بات پھیل گئی ہے کہ الکحل کے مشروبات انہیں کرونا وائرس کی وبا سے تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔

تقریبا تین ہفتے قبل نیوز ایجنسیوں نے ایک خبر نشر کی تھی۔ اس کے مطابق ایران کے جنوب مغربی شہر اہواز میں 20 اور کرج شہر میں 7 افراد موت کا شکار ہو گئے۔ ان کے علاوہ 218 افراد زہر خوانی میں مبتلا ہوئے جن میں سے بعض لوگ تو اندھے پن کا شکار ہو گئے۔ ان تمام افراد نے الکحل پر مشتمل زہریلے مشروبات نوش کیے تھے۔

ہسپانیہ کی ایجنسی EFE نے ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور کا ایک بیان جاری کیا۔ دو روز قبل جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال فروری کے وسط سے اپریل کے وسط تک دو ماہ کے دوران زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کے مقابلے میں رواں سال اسی عرصے میں فوت ہونے والوں کی تعداد میں 12 گُنا اضافہ ہو گیا۔ جہان پور کے مطابق اس کی وجہ سوشل میڈیا پر اس بات پر زور دیا جانا ہے کہ شراب پینے سے انسان کرونا وائرس سے محفوظ رہتا ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق بعض گھرانے تو صحیح معلومات سے اس حد تک بے بہرہ ہو گئے کہ انہوں نے الکحل پر مشتمل زہریلے مشروبات بچوں اور نوجوانوں کو بھی پیش کر دیے۔ فروری سے لے کر اب تک زہریلی شراب پینے کے سبب 728 افراد موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں 627 مرد اور باقی خواتین ہیں۔ خاص طور پر Methanol کے گھونٹ بھرنے کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے والے افراد کی عمر 14 سے 78 برس کے درمیان ہے۔

زہر خوانی کا شکار ہونے والے افراد کی ایک بڑی تعداد ابھی تک ہسپتالوں میں زیر علاج ہے۔ ان میں درجنوں افراد انتہائی طبی نہگداشت (آئی سی یو) کے یونٹس میں ہیں۔ بعض لوگوں کو دائمی ضرر کا سامنا کرنا پڑا جس میں خاص طور پر اندھا پن شامل ہے۔

گذشتہ ماہ 15 مارچ کو سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی خاتون رکن اور APEC زون کی نمائندہ حمیدہ زرآبادی نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے "سچائی اور صحیح اعداد و شمار سامنے لائے جائیں اور عوام کے لیے رہ نما پروگرام نشر کیے جائیں"۔ یہ بیان اس جانب عندیہ تھا کہ ایرانی معاشرے میں زہریلی شراب کے پھیلاؤ کے وجود کو چھپایا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں