.

اسرائیل کو کرونا کے خلاف طبی امداد کی فراہمی کے اعلان پر ایردوآن کو تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی جانب سے اسرائیل کو کرونا سے نمٹنے میں طبی سامان کی فراہمی کے اعلان پر عوامی اور صحافتی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

ترکی کے ایک کثیر الاشاعت اخبار 'سوزجو' نے انقرہ کی طرف سے تل ابیب کو طبی آلات کی فراہمی کے اعلان کو ترکی کے لیے ایک بڑا صدمہ قرار دیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پچھلے برسوں کے دوران ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ آج حکومت نے اچانک انسانی بنیادوں پر اسرائیل کو ماسک اور دیگر طبی آلات کی فراہمی کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل ترکی نے اسرائیل کو طبی ساز و سامان اور لوازمات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس میں چہرے کے ماسک، حفاظتی لباس اور جراثیم سے پاک دستانے شامل ہیں۔ اس فیصلے کا مقصد کرونا وائرس کے سبب پھیلی ہوئی وبا کی روک تھام میں تل ابیب کی مدد کرنا ہے۔

ترکی اور اسرائیل کے درمیان قربت کے بعد تقریبا 16 لاکھ افراد ترکی کی امداد سے استفادہ کریں گے۔

اسرائیل میں اب تک کرونا وائرس کے 9000 کے قریب کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں 50 سے زیادہ افراد فوت ہو چکے ہیں۔

ترکی کی حکومت نے "انسانی" وجوہات کی بنیاد پر اسرائیل کو طبی ساز و سامان فروخت کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس بات کی بھی توقع ہے کہ اسرائیل ترکی کی جانب سے طبی ساز و سامان کی اسی نوعیت کی ایک کھیپ بنا روک ٹوک فلسطینی اتھارٹی تک پہنچنے کی اجازت دے گا۔ بلومبرگ ویب سائٹ کے مطابق یہ بات ترکی کے ایک اعلی عہدے دار نے بتائی۔

ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ عالمی وبا کے دوران انقرہ کا تل ابیب کے ساتھ یک جہتی کا اظہار ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کا راستہ کھول دے گا۔

سال 2003 میں رجب طیب ایردوآن کے اقتدار میں آنے سے پہلے انقرہ اسلامی دنیا میں اسرائیل کا قریب ترین شریک تھا۔ اس کی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط عسکری تعاون ہے۔