.

کرونا بحران کے باوجود ترکی کی قطر کے لیے پروازیں بدستور جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس وقت پوری دنیا میں کرونا بحران کے نتیجے میں فضائی سروس تقریبا معطل ہے مگر اس بحران کے باوجود قطر اور ترکی کے درمیاں پروازیں جاری ہیں۔ 27 مارچ 2020 کو ترک سول ایوی ایشن کے جنرل ڈائریکٹوریٹ نے تمام بین الاقوامی پروازوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا لیکن قطر کے ساتھ پروازیں جاری ہیں اور دونوں ممالک کے مابین فلائٹ ٹکٹ خریدنے کا زبردست مقابلہ دیکھا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 10 مارچ کو ترکی میں کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا۔ 11 اپریل تک ترکی میں 47 ہزار 29 افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہوچکے تھے جن میں سے 1006 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ جان بیٹھے تھے۔ ترک حکومت نے کرونا سے متاثر کئی ممالک کے ساتھ فضائی سروس بند کردی تھی مگر دوحا اور انقرہ کے درمیان پروازیں بدستور جاری ہیں۔

تین فروری کو ترکی اور چین کے درمیان فضائی آمد ورفت بند ہوئی۔ 23 فروری کو ترکی نے مزید متعدد ممالک کے ساتھ پروازیں بند کرنے کا اعلان کیا۔ 13 مارچ کو جرمنی، فرانس اور اسپین جب کہ 17 مارچ کو ترکی نے برطانیہ کے لیے پروازیں بند کردیں۔

27 مارچ 2020 کو ترک سول ایوی ایشن کے جنرل ڈائریکٹوریٹ نے ایک بیان جاری کیا جس کے مطابق طبی کمیٹی کی سفارش کی بنا پر صدر ترک جمہوریہ نے تمام بین الاقوامی پروازوں کو معطل کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

3 اپریل کو ترک حکومت نے ترکی کے 30 بڑے شہروں میں باہر سے آمد ورفت بند کردی تاہم قطر سے آنے والی پروازوں کو ان شہروں میں فلائیٹ آپریشن جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔