.

'کرونا ہمیں نہیں، کفار کو متاثر کرتا ہے': داعش سے وابستہ خواتین کا مضحکہ خیز دعویٰ

’’اللہ تعالیٰ نے کرونا کی شکل میں اپنے نافرمانوں اور ظالموں کے لیے لشکر بھیجا ہے’’

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام کی سرزمین پر کئی سال تک خوف کی علامت سمجھی جانے والی تنظیم دولت اسلامیہ 'داعش' بری طرح کچلے جانے کے باوجود آج بھی موجود ہے۔

اس وقت پوری دنیا 'کرونا دہشت گردی' کے خلاف نبرد آزما ہے۔ ایسے میں 'داعش' کی خواتین کا ایک عجیب وغریب مضحکہ خیز دعویٰ سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ کرونا وائرس ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بلکہ یہ 'کفار' کے لیے ایک عذاب بن کرنازل ہوا ہے۔

عالمی اداروں نے شمالی شام میں شدت پسند گروپوں کے زیر انتظام علاقوں میں 'کرونا' کے پھیلنے کے خطرات کے بارے میں کئی بار متنبہ کیا ہے۔ شمالی شام میں موجود پناہ گزین کیمپوں میں 'داعش' کے ہزاروں جنگجو اور ان کے خاندان بھی موجود ہیں۔

شمالی شام کے علاقے الحسکہ میں قائم ایک کیمپ میں موجود 'داعش' کے جنگجوئوں کی خواتین نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 'کرونا' وباء ان کے لیے نہیں بلکہ کفار کے لیے ہے۔ یہ کفار ہی کو اپنے شکنجے میں جکڑتی ہے۔

ایک خاتون نے کہا کہ کرونا ہم مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ یہ ان کے لیے جو ظلم کرتے ہیں۔ کرونا اللہ کا اپنے نافرمانوں اور منکرین کے لیے ایک سپاہی اور اس کے عذاب کا ایک کوڑا ہے۔

ایک خاتون نے کہا کہ کرونا سے قبل ہم سنتے تھے کہ چین میں یغور مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اللہ نے کرونا کو اپنے نافرمانوں کے لیے خدائی لشکر اور مددگار کے طور پر بھیجا ہے۔ یہ ایسا سپاہی ہے کو انسانوں کو اسلامی شریعت کی طرف لا رہا ہے۔ نقاب کی پابندی کرا رہا ہے اور مرد وزن کے اختلاط کو روک رہا ہے۔

ادھر شمالی شام میں صحت کمیٹی کے چیئرمین منال محمد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کرونا کے مشتبہ مریضوں کی دیکھ بحال کے لیے مراکز قائم کیے ہیں تاہم ابھی تک وہاں کرونا کا کوئی سامنے نہیں آیا ہے۔