لیبر کی واپسی میں تعاون نہ کرنے والے ملکوں سے تعلقات پرنظر ثانی کریں گے: امارات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مُتحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ جو ممالک لیبر اور مزور طبقے کی واپسی میں تعاون سے انکار کررہے ہیں ان کےساتھ تعلقات پر نظر ثانی کی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امارات کی وزارت انسانی وسائل کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ وزارت متعدد آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ امارات میں لیبر بھیجنے والے ممالک اگر اپنی لیبرکی واپسی میں تعاون نہیں کرتے تو ان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون محدود کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے غیرملکی ملازم کام کی مدت مکمل ہونے یا پیشگی تعطیل پر واپس اپنے ملکوں میں جانا چاہتے ہیں مگر بعض ممالک اپنے شہریوں کو لینے سے انکار کررہےہیں۔

خبر رساں ادارے'ڈبلیو اے ایم' نے ذرائع نے کے حوالے سے بتایا کہ امارات کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کی واپسی کے حوالے سے دی گئی اطلاعات پر کوئی جواب نہیں دیا۔ موجودہ حالات میں بہت سے غیرملکی ملازمین نے واپس جانے کی درخواستیں دی تھیں مگر ان ملکوں کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

وزارت انسانی وسائل کے عہدیدار نے کہا کہ حکومت لیبر کی واپسی میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کے ساتھ تعاون اور تعلقات کو محدود کرنے پر غور کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا تھا کہ ہمارے سامنے کئی آپشن ہیں۔ تعاون نہ کرنے والے ممالک سے مزید لیبر منگوانے پرپابندی کے علاوہ کوٹہ سسٹم بھی رائج کیا جا سکتا ہے۔ن کا کہنا تھا کہ امارات میں لیبر بھیجنے والے ممالک کو کرونا کے بحران میں اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں