کرونا سے اموات، تہران میں 10 ہزار نئی قبریں تیار کرلی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کل اتوار کے روز ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ آئندہ 18 اپریل ہفتے کے روز سے تہران میں صحت کے حوالے سے کم خطرناک سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسےوقت میں دیا ہے جب دوسری طرف تہران میں کرونا سے بچائو کے لیے کسی قسم کا کوئی موثر پلان تیار نہیں کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ تہران کے میئر کے معاون خصوصی نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر دارالحکومت تہران کے'بہشت زھراء' قبرستان مین مزید 10 ہزار نئی قبریں تیار کی گئیہ ہیں۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی'ارنا' کے مطابق تہران میونسپل کونسل کے اجلاس میں میئر کے معاون مجتبیٰ یزدانی نے کہا کہ تہران میں بہشت زھرا قبرستان میں 12 میٹر لمبے متعدد فریج کنٹینر اور کئی ریفریجی ریٹر رکھے گئے ہیں جن میں کرونا سے مرنے والوں کی لاشیں تدفین سے قبل منتقل کی جائیں گی۔

حال ہی میں ایرانی صدر حسن روحانی نے انسداد کرونا مرکز کے اجلاس سے خطاب میں شہروں کے درمیان سفر کرنے پرپابندی عاید کردی تھی۔ اسی طرح حکومت نے 20 اپریل کو ملک ایک سے دوسرے صوبے میں سفر پربھی پابندی عاید کی گئی ہے۔

مجتبٰی یزدانی کاکہنا ہے کہ صرف تہران میں 10 ہزار اضافی قبریں کھودی گئی ہیں۔ فی الحال تہران میں ہونے والی ہلاکتوں کی اصل تعداد کا علم نہیں ہوسکا ہے۔ ایرانی حکومت کی طرف سے ملک کے 31 صوبوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی اصل تعداد بھی ظاہر نہیں کی ہے۔

کل اتوار کو ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور نے بتایا کہ ایران میں جنوری کے بعد سے اب تک ایران میں کرونا سے ہلاکتوں کی تعداد 4474 ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں