.

اردن:کرونا وائرس،رمضان میں مساجد میں نمازوں کی ادائی پر پابندی برقرار رہے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے رمضان المبارک کے دوران میں بھی مساجد میں نمازوں کی ادائی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اردن میں اب تک کرونا وائرس کے 389 کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے اور اس سے سات اموات ہوئی ہیں۔حکومت نے گذشتہ اتوار کو ملک میں جاری لاک ڈاؤن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کردی تھی۔اس لاک ڈاؤن کے تحت اسکول ، جامعات اور سرکاری ادارے بند کردیے گئے ہیں۔ تاہم دواخانوں اور ضروری عوامی خدمات کو مستثنیٰ قراردیا گیا ہے۔

اردنی حکومت کے ترجمان امجد عدیلہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمرالرزاز نے لاک ڈاؤن اور مساجد میں نمازوں کی ادائی پر پابندی کا فیصلہ کرونا وائرس کی وَبا کے تعلق سے ہونے والی پیش رفت اور سفارشات کی روشنی میں کیا ہے۔

اردن نے 20 مارچ کو ملک بھر میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔اس کے تحت لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندی عاید ہے۔اس تاریخ سے ایک روز قبل ہی اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے ملک میں ہنگامی قانون نافذ کردیا تھا اور اس کے تحت حکومت کو شہری اور سیاسی حقوق پر قدغنیں لگانے کے لیے اختیارات حاصل ہوگئے تھے۔

اردنی حکومت نے حالیہ دنوں میں برآمدات سے متعلق بعض صنعتوں اور زرعی صنعتوں کو محدود پیمانے پر کام کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ کرفیو کے منفی مضمرات کا ازالہ کیا جاسکے یا انھیں کم سے کم کیا جاسکے۔

کرونا کے بحران کی وجہ سے اردن کی سیاحت کی صنعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔اس سے ملک کو سالانہ پانچ ارب ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔معاشی ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ کرونا کی وَبا کی وجہ سے ملک کی اقتصادی شرح نمو کم رہے گی۔واضح رہے کہ اردن کی معیشت کا انحصار غیرملکی قرضوں اور امداد پر ہے اور اس بحران سے قبل بھی اس چھوٹے عرب ملک میں عام آدمی کے حالات کوئی اتنے اچھے نہیں تھے۔