.

ترکی روزانہ کی بنیاد پر جنگجو لیبیا بھیج رہا ہے: المسماری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں نیشنل آرمی نے ایک بار پھر ترکی پر جنگجوئوں کو لیبیا میں داخل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے کہا ہے کہ ترکی کے ہوائی اڈوں سے لیبیا کے مصراتہ اور طرابلس کے ہوائی اڈوں پر روزانہ کی بنیاد پر جنگجو پہنچائے جاتےہیں۔

اتوار کی شام ایک بیان میں المسماری کا کہنا تھا کہ ترکی کی بندرگاہوں سے طرابلس بندرگاہ پر 1500 جنگجو دہشت گرد بھیجے گئے۔سلامتی کونسل کی طرف سے لیبیا میں اسلحہ کی سپلائی بند کرنے کی قراردادو کے باوجود ترکی لیبیا کی قومی وفاف حکومت کو مسلسل اسلحہ اور گولہ بارود بھی فراہم کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کے ڈرون طیارے لیبیا میں طبی اور غذائی سامان لے جانے والے قافلوں پر بمباری کرتے ہیں۔

المسماری نے کہا کہ جنوب مشرقی علاقوں میں موجود قومی فوج غیرقانونی ھجرت اور منظم جرائم کی روک تھام کے لیے کام کررہی ہے۔

لیبیا میں کرونا کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں المسماری کا کہنا تھا کہ فوج کے زیرانتظام علاقوں میں وباء کی روک تھام کے لیے ہمہ وقت کام جاری ہے۔

خیال رہےکہ ہفتے کے روز شامی انسانی حقوق گروپ نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ شام سے جنگجوئوں کی ترکی کے راستے لیبیا آمد روفت جاری ہے۔ ترکی ان جنگجوئوں کو لیبیا میں قومی وفاق کی مدد کے لیے استعمال کررہا ہے۔

انسانی حقوق آبزر ویٹری کے مطابق دنیا کے کرونا کی وباء میں الجھنے کے بعد ترکی نے سلطان مراد، شمالی شاہین بریگیڈ، فیلق الشام اور دیگر گروپوں کے 300 جنگجو ترکی کے راستے لیبیا بھیجے گئے۔ چند روز قبل سلطان مراد ملیشیا کے 150 جنگجوئوں کو شام کے عفرین مرکز سے ترکی لے جایا گیا جہاں سے انہیں لیبیا بھیجا گیا ہے۔