.

کرفیو کے اوقات میں کام کرنے والی سعودی خاتون ام نواف کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے کئی شہروں میں کرونا وائرس کے مزید پھیلائو کی روک تھام کے لیے کرفیو نافذ ہے۔ کرفیو کے دوران صرف مجاز اداروں کے کارکنوں اور ملازمین کو گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے مگر سعودی عرب کی ایک خاتون جس کی شناخت 'ام نواف' کے نام سے کی گئی ہے بغیر اجازت سڑکوں پر گھاڑی چلاتی دیکھی گئی ہے۔

ام نواف کرونا کے بحران سے قبل مختلف اشیاء کے نمونے فراہم کرنے کے پروگرام پرکام کررہی تھی۔ کرونا اور کرفیو کے دنوں میں ٹیلی کام کمیشن کی طرف سے خواتین کو گھروں میں رہتے ہوئے کام جاری رکھنےکی اجازت دی گئی ہے۔ خواتین کرفیو کے حالات اور پابندیوں سےفائدہ اٹھا کر ایک آن لائن ایک دوسرے سے رابطے بڑھا رہی ہیں اور باہمی رابطوں کے لیے آن لائن کمیونی کیشن ایپس کا استعمال کرتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ام نواف کا کہنا تھا کہ میں کورنا سے قبل خواتین کو ان کی بنیادی ضرورت کی چیزیں پہنچاتی رہی ہوں۔ کرونا کی وجہ سے عاید کی جانے والی پابندیوں کے بعد ہم خواتین بہت زیادہ دبائو میں ہیں۔ گھروں میں اشیائے خور دونوش اور گھریلو ضروریات کی چیزوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضرورت کی اشیاء کی فراہمی کے دوران ہمارا کام اب مزید محدود ہوگیا ہے۔ ہم خوراک اور طبی ضرورت کی چیزیں پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ہم تمام حفاظتی تدابیر اختیار کرتی ہیں۔ دستانے پہننا، ہاتھوں کو صابن کے ساتھ دھونا، سینی ٹائیزنگ اور دیگر امور انجام دینا ضروری ہے۔