.

ایرانی ڈاکٹر دشمنوں کی "میڈیسن مارکیٹس" کو سپورٹ کر رہے ہیں : خامنہ ای کے نمائندے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک مذہبی شخصیت غیاث الدین طہ محمدی نے ملک کے بعض ڈاکٹروں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے دوران دشمن ممالک کی تیار کردہ دواؤں کی مصنوعات کو ترویج دے کر ان ممالک کی معیشت کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ محمدی مغربی صوبے ہمدان میں ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کے نمائندے بھی ہیں۔

ایرانی مذہبی شخصیت کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈاکٹروں نے جو کچھ سیکھا ہے وہ مغرب اور دشمنوں کے مسلط کردہ علوم ہیں ... لہذا ان ڈاکٹروں کی کوششوں سے صرف دشمنوں کی دواؤں کی مارکیٹ چمکے گی۔

اصلاح پسندوں کی ویب سائٹ "سحام نيوز" نے بدھ کے روز بتایا کہ محمد نے مزید کہا کہ ایران میں اسلامی اور روایتی طب کو مضبوط بنایا جانا چاہیے ،،، اس طب پر ادارتی چھاپ ثبت ہونا چاہیے۔

اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی اپنے ایک خطاب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارے یہاں صحت کی صورت حال ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اچھی ہے۔ العالم ٹیلی وژن کے مطابق روحانی نے مزید کہا کہ اس عرصے کے دوران شہریوں کی نقل و حرکت میں بڑی حد تک کمی آئی ہے اور ملک میں حالات بتدریج بہتر ہوں گے۔

یاد رہے کہ رواں سال 19 فروری کو ایران میں کرونا وائرس کے سبب پہلی وفات کے بعد سے اب تک 100 کے قریب ڈاکٹر اور تیماردار موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس دوران 1490 کے قریب ڈاکٹر اس وبائی وائرس سے متاثر ہوئے۔

ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور نے منگل کے روز بتایا تھا کہ ملک میں کرونا کے سبب وفات پانے والے افراد کی مجموعی تعداد 4683 ہو گئی ہے ... جب کہ اس وبائی مرض کے 74877 مصدقہ کیسوں کا اندراج کیا جا چکا ہے۔

جہانپور نے اخباری بیان میں بتایا کہ کرونا سے متاثرہ مریضوں میں سے 3691 کی حالت تشویش ناک ہے اور یہ لوگ ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔