.

لیبیا کی قومی وفاق حکومت کا ساحلی شہر صرمان پر ڈرامائی قبضہ

نیشنل آرمی کا صرمان کا قبضہ جلد واپس لینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ قومی وفاق حکومت نے جنرل خلیفہ حفتر کی زیرکمان فوج کےخلاف ساحلی شہر صرمان میں حملہ کرکے شہر کو نیشنل آرمی سے چھڑا لیا ہے۔ دوسری طرف نیشنل آرمی کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی طاقت کا توازن تبدیل کرتے ہوئے صرمان کو لیبی فوج سے آزاد کرائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی طرف سے منگل کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت طرابلس سے مغرب میں 60 کلو میٹر کی مسافت پر واقع شہر صرمان کو ترکی کی فضائی مدد اور ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے گئے حملے میں شہر کو چھڑا لیا گیا ہے۔

لیبی حکومت کا کہنا ہے کہ صرمان کی آزادی کے بعد ملک میں قبضے کے لیے جاری لڑائی ایک نیا موڑ اختیار کرے گی۔

خیال رہے کہ ساحلی شہر صرمان کے چھن جانے کے بعد لیبی فوج کے پاس صبراتہ شہر بچا ہے۔ اس شہر پر چار اپریل 2019ء کو طرابس کی آزادی کے لیے شروع کی گئی لڑائی سے قبل لیبی فوج نے قبضہ کرلیا تھا۔

سوموار کے روز لیبی فوج کی معاون فورسز نے صرمان میں سیکیورٹی ہیڈ کواٹرز، حکومتی مراکز، جیل اور شہر میں موجود عدالتوں کی عمارتوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس موقعے پر فریقین کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی ہے۔ اس کارروائی میں ترکی کے ڈرون طیاروں نے حصہ لیا جب کہ حکومت نے سوشل میڈیا پر اس 'کامیابی' کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں جس میں شہر میں قومی وفاق کی وفادار فوج کو گشت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ادھر لیبی فوج نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ صرمان شہر پر قومی وفاق حکومت کی کارروائی کے بعد جنگ ایک نیا رخ اختیار کرے گی۔ لیبی فوج کا کہنا ہے کہ اب لڑائی کا ایک نیا نقطہ آغاز ہےاور جلد ہی فوج طاقت کا توازن تبدیل کردے گی۔