.

پیسے کی کمی پوری کرنے کے لیے ایران کا مذہبی سیاحت دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس وقت کرونا کی وباء کے وجہ سے پوری دنیا سفری پابندیوں کے فیصلے کررہی ہے جب کہ ایرانی حکومت پیسے کی کمی پوری کرنے کےلیے مذہبی سیاحت دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کررہا ہے۔

ایران کے حج و زیارت کمیشن کےچیئرمین علی رضا رشیدیان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک صحت کی شرائط کو یقینی بنانے کی صورت میں شام اور عراق میں مذہبی مقامات کی زیارت کی اجازت دینے پرغورکررہا ہے۔

ایران کی 'فارس' نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اگر زائرین اپنی صحت کو یقینی بنانے کی ضمانت فراہم کرتے ہیں تو انہیں عراق اور شام میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سفر کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

ادھر ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جھانپور نے بتایا ہے کہ منگل کے روز مزید 98 افراد کرونا کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے جب کہ متاثرین کی تعداد 74 ہزار 877 تک پہنچ گئی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ منگل کو کرونا کے مزید 1574 مریض سامنے آئے۔ 48 ہزار 128 افراد کرونا سے شفایاب ہوچکے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کرونا کا شکار ہونے والے 3661 افراد کی حالت تشویشناک ہے جب کہ اب تک 2 لاکھ 87 ہزار 359 افراد کا طبی معائنہ کیا گیا ہے۔

ادھر حکومت نے کرونا سے متعلق سرکاری اعدادو شمار سے ہٹ کرمعلومات فراہم کرنے پر چار حکومتی عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی تیاری شروع کی ہے۔ ان میں قم یونی ورسٹی کےوائس چیئرمین حسن عادلی بھی شامل ہیں جن کے بارے میں معلومات ملی ہیں کہ وہ خود بھی کرونا کا شکار ہوچکے ہیں۔