.

کرونا نے ایرانی 'انجلینا جولی' کے پھیپھڑے تباہ کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں انسٹا گرام اسٹار اور ایرانی انجیلنا جولی کے لقب سے مشہور دو شیزہ اس وقت کرونا کا شکار ہونے کے بعد اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ذرائع کے مطابق انسٹا گرام پر 'سحر تبر' کےنام سے مشہور فاطمہ خیشواند اس وقت تہران کے سینا اسپتال میں زیر علاج ہے۔ اسے کرونا کا شکار ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کی فاطمہ خیشوند کو کچھ عرصہ قبل اس وقت عالمی شہرت حاصل کی تھی جب اس نے پلاسٹک سرجری کے ذریعے انجیلینا جولی بننے کی کوشش کی تھی مگر اس کوشش میں اس نے اپنا حلیہ بگاڑ لیا تھا۔

عصر ایران ویب سائٹ کے مطابق فاطمہ خیشواند کے وکیل بیام دوفشان نے بدھ کو بتایا کہ ان کی موکلہ چھ ماہ سےقید ہے اور اسے چند ہفتے قبل کرونا کاشکار ہونے کے بعد سینا اسپتال میں قرنطینہ میں ڈال دیا گیا تھا۔

وکیل نے بتایا کہ اس کی موکلہ فاطمہ نے چند روز قبل اپنی ماں کو جیل سے ٹیلیفون کرکے بتایا تھا کہ وہ کرونا کا شکار ہوئی ہیں جب کہ جیل میں خواتین قیدیوں کی انچارج نے فاطمہ کے کرونا کے شکار ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

جب کہ فاطمہ خیشواند کےوکیل درفشان نے بتایا کہ اس کی موکلہ کو پھیھپڑوں میں تکلیف کے بعد'سینا' اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں اس کا کرونا کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔