.

جنوری میں چین کے سفر پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا: ایرانی وزیر صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں کرونا پھیلنے کی وجوہات میں ایک وجہ ایرانی حکام کی مبینہ غفلت بھی بتائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے ایرانی حکومت کے بعض عہدیداروں کے بیانات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

اسی ضمن میں ایرانی وزیر صحت سعید نمکی کا تازہ بیان سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے کرونا کا خطرہ بہت پہلے بھانپ لیا تھا۔ اس لیے جنوری کے مہینے میں حکومت سے کہا تھا کہ وہ چین کے لیے سفر پر پابندی عاید کر دے مگر ان کی تجویز نہیں مانی گئی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ میں نے جنوری کے وسط سے چین میں وبا شروع ہونے کے بعد چین کے ساتھ تمام پروازیں روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جمعہ کے روز "ورلڈ آف اکنامکس" اخبار میں لکھے گئے ایک مضمون میں سعید نمکی نے اپنی وزارت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنوری کے تیسرے ہفتے چین میں کرونا کے اعلان کے بعد سے انہوں نے ایران کے پہلے نائب صدر کے ساتھ ہنگامی ملاقات کا مطالبہ کیا تاکہ چین کے لیے سفر پرپابندی عاید کی جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں پہلے متاثرین کے بعد کچھ پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔ یونیورسٹیوں اور اسکولوں کو بند کیا گیا، اجتماعات پر پابندی، جمعہ کی نماز پر پابندی، شادی بیاہ تقریبات، مزارات میں اعتکاف، مذہبی پروگراموں، سینما گھروں، تھیٹر، کھیل کے میدانوں اور دیگ مراکز میں لوگوں کی آمد پر پابندی عاید کی گئی مگر اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی۔

سعید نمکی کا مضمون صدر کے سابق معاون مسعود نیلی کا ایک مضمون دنیائے اقتصاد میں شائع ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ ملک میں کرونا کی وبا پھیلنے کی تمام تر ذمہ داری وزارت صحت پرعاید کی۔