.

سعودی پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے دمّام اغوا کیس سے متعلق واقعات کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں پبلک پراسیکیوشن نے جمعے کے روز جاری ایک بیان میں دمام اغوا کیس کے حوالے سے تفصیلات جاری کی ہیں۔

پراسیکیوشن نے 20 سال قبل تین بچوں کے اغوا کے مقدمے میں 5 افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی ہے۔ ان میں 4 سعودی اور ایک یمنی باشندہ ہے۔ اس کے علاوہ اغوا کار خاتون پر دیگر ملزمان کے ساتھ ساز باز اور سرکاری اداروں سے غلط بیانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پبلک پراسیکیوشن نے اپنی درخواست میں پہلے، دوسرے اور تیسرے ملزم کے خلاف "حرابہ" کی شرعی حد کے مطابق (سر قلم کرنے کا) فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے زمین میں فساد پھیلانے کے عمل کا ارتکاب کیا۔ ان کے علاوہ بقیہ دو ملزمان کو بھی عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پراسیکیوشن کے سرکاری ترجمان کے بیان کے مطابق مقدمے میں ملوث خاتون نے متعلقہ ادارے سے درخواست کی تھی کہ اسے دو بچوں کے لیے شناختی دستاویزات جاری کی جائیں۔ خاتون نے دعوی کیا کہ دونوں بچے اسے 20 سال قبل لاوارث ملے تھے۔ اس پر پبلک پراسیکیوٹر شیخ سعود بن عبداللہ المعجب نے تفتیشی اداروں کو اس واقعے کی تحقیقات کی ہدایت دی۔ حیاتیاتی ٹیسٹوں کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ دونوں بچوں کا ملزمہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان بچوں کا نسب دیگر سعودی خاندانوں کے ساتھ مل گیا۔ ان خاندانوں نے اپنے بچوں کے اغوا ہونے کی رپورٹ درج کرائی ہوئی تھی۔

ترجمان کے مطابق پبلک پراسیکیوشن کی تحقیقاتی ٹیم نے اس مقدمے کے سلسلے میں 247 اقدامات انجام دیے۔ اس دوران 21 ملزمان اور عینی شاہدین کے ساتھ پوچھ گچھ کے 40 سیشن ہوئے۔ تحقیقات مکمل ہونے پر پانچ افراد کو ملزم ٹھہرایا گیا۔ ان میں ایک شخص سعودی عرب سے باہر مقیم ہے۔ پبلک پراسیکیوشن نے انٹرپول کے ذریعے اس کی واپسی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

سرکاری ترجمان نے باور کرایا کہ متعلقہ اداروں کو سعودی فرماں روا اور ولی عہد کی جانب سے بے پناہ سپورٹ حاصل ہے۔ ان اداروں کا مقصد مملک کے امن و استحکام اور شہریوں اور مقیم افراد کے حقوق کو گزند پہنچانے والے عناصر کا فوری اور کڑا احتساب یقینی بنانا ہے۔