.

پاسداران انقلاب کی تیار کردہ کرونا ٹیسٹ مشین تنقید کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ پاسداران انقلاب نے ایک ایسی مشین ایجاد کی ہے جو کرونا کے مریض کی کچھ فاصلے سے تشخیص کی جا سکتی ہے۔

دوسری طرف سائنسی اور علمی حلقوں نے پاسداران انقلاب کے اس نام نہاد آلہء تشخیص پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے۔ ایران میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی پاسداران انقلاب کی اس نئی مشین کے بارے میں بحث جاری ہے۔

اس مبینہ تشخیصی آلے پر ایرانی عہدیداروں اور مقامی سائنسی اداروں دونوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔

تنقید کرنے والے اداروں میں ایران کی فزیکل سائنس کی ایرانی تنظیم بھی شامل ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے آلات کی تیاری ممکن نہیں کیونکہ جراثیم جیسے نہ دکھائی دینے والے اجسام کسی ریمورٹ کنٹرول مشین سے نہیں دیکھے جاسکتے۔ ایرانی سائنس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کا یہ دعوی مضحکہ خیز ہے جس پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔

ایرانی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 'انسانی علم فی الحال دور سے ہی 100 نینو میٹر کے طول و عرض والے ذرات کو تلاش کرنے میں ناکام ہے'۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے بُدھ کے روز ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے "نیوز نیٹ ورک" کے ذریعے نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پاسیج فورسز نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا جو 100 میٹر سے کرونا وائرس کے متاثرہ مریض کی صرف پانچ سیکنڈز میں تشخیص کرسکتا ہے۔

تاہم ایرانی وزارت صحت نے اس ڈیوائس کے استعمال کی تائید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت صحت کی طرف سے اشارہ کیا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب اس سے پہلے بھی دھاتوں اور تیل کا پتا چلانے والے آلات تیار کرنے کا دعویٰ کر چکا ہے۔

حسین سلامی نے نئے آلے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ایک نیا اور انوکھا کام ہے۔ پاسداران انقلاب کے سائنس دانوں نے ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد یہ مشین ایجاد کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیوائس کا بنیادی کام مقناطیسی فیلڈ کی تخلیق پر مبنی ہے۔ یعنی آلہ میں دو قطبی وائرس کو شامل کیا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ "بائی پولر وائرس" سے کیا مراد ہے۔