جواد ظریف کا کرونا کی وباء میں ایران اور شام پرعاید پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ

ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ شام، صدر بشارالاسد سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران امریکا سے ایک بار پھر ایران اور شام پر عاید کی گئی پابندیاں فوری طور اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

شامی حکومت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سنا' نےبشارالاسد اور جواد ظریف کی ملاقات کی خبر جاری کی ہے۔ اس موقعے پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے کرونا کی وباء کے دوران بھی ایران اور شام پر اقتصادی پابندیاں برقرار رکھ کر اپنا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

بشارالاسد سوموارکو جواد ظریف سے ملاقات کے دوران ایران میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات پر اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی کرونا وبا "سیاسی استحصال" کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق جواد ظریف کے دورہ دمشق کا مقصد شامی حکومت کو یہ پیغام دینا ہے کہ تہران اسے تنہا نہیں چھوڑے گا۔

خیال رہے کہ روس اور ایران کو شام کے سب سے بڑے اتحادی قرار دیا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں نے سنہ 2011ء میں شام میں حکومت کےخلاف اٹھنے والی تحریک کو دبانے میں پوری طاقت جھونک دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں