.

آکسیجن آلات کی فراہمی کا دعویٰ کر کے ایرانی وزیرخارجہ نے خود کو مشکل میں ڈال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریفہ ٹویٹر پرامریکا کے خلاف جنگ لڑنے کے ساتھ اپنی حس ظرافت کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ دیگر ایرانی لیڈروں کی طرح وہ بھی بعض اوقات ایسے مضحکہ خیز دعوے کرتےہیں جس پرانہیں سوشل میڈیا پر سخت طنزو تنقید کا سامناکرنا پڑتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دو روز پیشتر محمد جواد ظریف نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے بیان داغا کہ ایران جلد ہی دنیا کو آکسیجن فراہم کرنے والے آلات، ریسپیریٹر اور وینٹی لیٹر برآمد کرنا شروع کرے گا۔ ان کے اس بیان پر ایران میں سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت ملک میں جاری کرونا کی وباء پرقابو پانی میں تو ناکام رہی ہے جب کہ وزیر خارجہ پوری دنیا کو وینٹی لیٹر فراہم کرنے چلےہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کئی ہفتوں سے امریکا کے خلاف سخت شکایات پرمبنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بار بارامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران بارے پالیسیوں اور تہران پر عاید کی گئی اقتصادی پابندیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی اقتصادی پابندیوں کے نتیجےمیں ایران کے لیے کرونا سے لڑنا مشکل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ امریکا کی پابندیوں کے نتیجے میں ہمیں عالمی سطح پرطبی سامان کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ صرف ایک کام کریں۔ وہ دوسرے ممالک اور ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز آئیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی عالمی لیڈر سے مشورہ لینے اور ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں۔