.

شام کے صوبہ حمص میں اسرائیلی بمباری سے 9 ایران نواز جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ 'سیرین آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس' نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ مشرقی حمص کے دیہی علاقے میں قائم ایک فوجی کیمپ پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 9 ایران نواز بندوق بردار ہلاک ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آبزرویٹری نے تصدیق کی ہے کہ پیر کی شام حمص کے مشرقی صحرا میں قائم ایک فوجی کیمپ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران اور لبنانی حزب اللہ کے کم سے کم 9 گوریلا جنگجو ہلاک ہوگئے۔ ان میں سے تین شامی شہری بتائے جاتے ہیں جب کہ باقی چھ دوسرے ملکوں سےتعلق رکھتے ہیں۔

قبل ازیں ذرائع ابلاغ نے بتایا تھا کہ حمص کے مشرقی دیہی علاقے زور دار دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھے۔ ذرائع کے مطابق شام پر بمباری کے لیے اسرائیلی طیاروں نے لبنان کی فضائی حدود کو استعمال کیا۔ اس حملے میں مشرقی حمص میں قائم ایک ایرانی فوجی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔

درایں اثناء شامی حکومت کی خبر رساں ایجنسی نے پیر کی شب اسرائیلی بمباری کا اعتراف کیا تھا۔ شام کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق سیرین ڈیفنس فورس نے اسرائیلی طیاروں پر جوابی حملہ کیا۔ جوابی کارروائی میں اسرائیل کے متعدد میزائلوں کو مار گرایا گیا۔

خیال رہے کہ شام میں اسرائیل کے فضائی حملے معمول کی بات ہے۔ گذشتہ ماہ اسرائیلی طیاروں نے شام کے شہر الشعیرات میں قائم ایک دفاعی فوجی اڈے'ٹی فور' پر کم سے کم 8 میزائل گرائے تھے جس کے نتیجے میں اڈے پرموجود جنگجوئوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچا تھا۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ شام میں سنہ 2011ء کی خانہ جنگی کے بعد ایران کی شام میں مداخلت بڑھ گئی ہے اور ایران جنگ زدہ ملک میں اپنا دفاعی اثرو نفوذ بڑھا رہا ہے۔ ایران شام میں اپنے اسلحہ گودام بنانے کے لیے ساتھ مبینہ طور پر شام میں اسلحہ سازی کی فیکٹریاں قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شام کی سرزمین پر ایرانی حمایت یافتہ غیرملکی جنگجوئوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔