.

عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے منتظر ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران ایک بار پھرعراقی پالیسی اور داخلی امور مداخلت کرنے لگا ہے۔عراق کے نامزد وزیر اعظم مصطفی کاظمی نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ حکومت کی تشکیل میں کسی بیرونی دبائو میں نہیں آئیں گے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب عراق اس وقت بہ یک وقت کرونا اور تیل کے بحران سے گذر رہا ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری کا کہنا ہے کہ ان کا ملک عراقی پارلیمنٹ کے ملک میں موجود امریکی فوج کے انخلاء کے فیصلے پر بغداد حکومت کی طرف سے عمل درآمد کا منتظر ہے۔

جنرل باقری نے کل سرکٹ ٹیلی ویژن کے توسط سے عراق کی اندرونی سیکیورٹی فورسز کے رہ نماؤں کی جنرل کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ عراقی عوام اور مزاحمت کے محور نے تین جنوری کو بغداد ہوائی اڈے 'قدس فورس' کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اس اقدام کے جواب میں عراقی پارلیمنٹ نے ملک میں موجود تمام امریکی فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے یہ بھی مزید کہا کہ جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے بعد عراق سے امریکی افواج کو بے دخل کرنا ضروری ہوگیا تھا مگر اس پراب تک عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ ہم عراقی حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ کے مطالبے پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔

ادھرعراق کے سماجی، عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے حزب اللہ سے منسلک کمانڈر محمد الکوثرانی کا کافی چرچا ہو رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہےکہ محمد الکوثرانی قاسم سلیمانی کا بہت قریبی ساتھی اور ان کا ممکنہ جانشین بھی ہے۔

حال ہی میں ایران کی 'قدس فورس' کے سربراہ اور قاسم سلیمانی کے جانشین محمد الکوثرانی کو بریگیڈیئر اسماعیل قاآنی کی ہمراہ دیکھا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ قآانی کا یہ عراق کا پہلا دورہ ہے۔ اسماعیل قا آنی کو جنرل قاسم سلیمانی ہلاکت کے بعد پاسداران انقلاب کی سمندر پارآپریشنل کارروائیوں کی ذمہ دار قدس فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں