.

لبنانی حزب اللہ میں بدعنوانی کا انکشاف ، رابطہ کاری یونٹ کے ذمے دار کے حوالے سے ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں مئی 2018 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل حزب اللہ تنظیم نے اپنی توجہ لبنان کے داخلی سماجی، اقتصادی اور انتظامی امور کی جانب مرکوز کی۔ اس موقع پر تنظیم نے بدعنوانی کے انسداد کا نعرہ بلند کیا۔

حزب اللہ نے اپنے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانے کے لیے بدعنوانی کے انسداد کا پرچم لہرایا۔ تاہم بعض زمینی حقائق نے تنظیم کے اپنے اندر کئی امور میں بدعنوانی کا انکشاف کیا۔ ان میں اسلحے اور منشیات کی تجارت اور کالے دھن کو سفید بنانے کی کارروائیاں شامل ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع نے بھی ان باتوں کی تصدیق کر دی۔ اسی کے سبب حزب اللہ کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ بدعنوانی کے بعض مرتکب افراد حزب اللہ کے سینئر عہدے داران یا تنظیم کے قائدین کے بھائی یا بیٹے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی کارستانیوں پر براہ راست یا بالواسطہ پردہ ڈالا۔

گذشتہ ہفتے مقامی میڈیا میں باسم وفیق صفا کے نام کا چرچا رہا۔ وہ حزب اللہ میں تعلق اور رابطہ کاری کے یونٹ کا ذمے دار ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے گذشتہ برس جولائی میں باسم کا نام زیر پابندی افراد کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس پر حزب اللہ کی سرگرمیوں کے لیے سہولت کار بننے کا الزام ہے۔ باسم کے علاوہ دو مزید شخصیات پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ ان میں ایک محمد رعد (پارلیمانی بلاک کا سربراہ) اور دوسرا امین شرّی ہے۔

باسم کو حزب اللہ کے اندر بڑا مقام حاصل ہے۔ بعض لوگ اسے وزیر کے مساوی حیثیت کا حامل قرار دیتے ہیں۔ لبنان میں زمینی اور فضائی گذر گاہوں پر اس کا نفوذ پھیلا ہوا ہے۔

باسم کی زندگی کا سفر ایک غریب خوانچہ فروش کی حیثیت سے ہوا تھا۔ یہاں تک کہ وہ حزب اللہ میں اپنی پوزیشن اور تنظیم کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے قریب ہونے کے سبب ایک بڑا "ڈیلر" بن گیا۔ معلوم رہے کہ باسم کی ماہانہ تنخواہ 1300 ڈالر سے زیادہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ میں تعلق اور رابطہ کاری یونٹ کا ذمے دار مقرر ہونے سے قبل باسم وفیق صفا تنظیم کا ایک چھوٹا کارکن تھا۔ وہ دارالحکومت بیروت کے نواح میں ایک غریب علاقے میں رہتا تھا۔ کئی برس اسی حال میں گزارنے کے بعد اس پر اختیارات کے دروازے کھل گئے۔

باسم کے نفوذ میں اُس وقت اضافہ ہوا جب اسے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے بعض سمجھوتوں کی نگرانی سونپی گئی۔ یہاں تک کہ وہ ایسی سخت جان شخصیت بن گیا کہ حزب اللہ کے لیے اس سے دست بردار ہونا ممکن نہ رہا۔ بعد ازاں وہ اقتدار، اثر و نفوذ اور مالی رقوم کے سلطنت کو چلانے لگا۔

باسم نے اپنے اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عسکری اداروں میں بھی اپنے بعض افسران کو بھرتی کروایا۔ اسی طرح باسم نے ہتھیاروں کی تجارت اور کیپٹاگون کیپسول کی اسمگلنگ سے متعلق سرگرمیاں انجام دینے والے بعض شیعہ تاجروں کی بھی پشت پناہی کی۔ اس نے اپنے عزیزوں اور رشتے داروں میں سیکورٹی پاس تقسیم کیے۔

علاوہ ازیں باسم نے حزب اللہ کے اندر اپنے اثر و رسوخ اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو منشیات کے بڑے تاجروں کو لبنان کی جیلوں سے باہر لانے کے واسطے استعمال کیا۔ اس حوالے سے باسم کو یدِ طولی حاصل رہا۔