.

عراق کا سرحد کھولنے سے انکار، کیا ایران کا عراق پر نفوذ کم ہو رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا کی وبا نے نہ صرف پوری دنیا میں صحت کا بحران پیدا کیا ہے کہ اس کے تمام شبعہ ہائے زندگی پر براہ راست اور بالواسطہ اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ بیماری کئی دوست اور اتحادی ملکوں کے درمیان بھی رخنے ڈالنے کا موجب بن رہی ہے۔

امریکی اخبار 'نیویارک' کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا کے بعد دنیا پہلے کی طرح نہیں ہے۔ جیسا کہ بین الاقوامی ماہرین کی توقع تھی کرونا وائرس ایران اور عراق کے تعلقات پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ عراق سے موصولہ ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ وائرس بنیادی طور پر دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بحال کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

امریکی نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق عراق ایران سے آزاد ملک کی حیثیت سے اپنے وژن کو آگے بڑھانے میں اب تک کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ عراق نے ایرانی دباؤ کے باوجود اس کے ساتھ سرحدیں کھولنے سے انکار کر دیا ہے۔

اخبار کے مطابق عراق اور ایران کے درمیان زمینی سرحد کھولنے کے معاملے پر رسا کشی ہو رہی ہے۔ گاڑیوں کی سرحد پار آمد ورفت اور کراسنگ کھولنے کی تاریخ کے حوالے سے دونوں ممالک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے اور کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا۔ عراق نے پانچ ہفتے قبل کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے ایران کے ساتھ سرحد سیل کر دی تھی۔

ایران جو اس وائرس سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے عراق کے ساتھ سرحد فوری طور پر کھولنا چاہتا ہے۔اسے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد کے لیے عراق کے ساتھ تجارت کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ خطے کے بیشتر ممالک کے ساتھ سرحدیں کھولنے کا اندیشہ رکھنے والا عراق اس وائرس سے لڑ رہا ہے۔

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق پر ایران کا اثر و رسوخ کم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سنہ 2003 ء میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے عراق پر چڑھائی اور صدام حسین کا تختہ الٹے جانے کے بعد تہران کی بغداد میں مداخلت بڑھ گئی تھی۔

سرحدیں کھولنے کا خطرہ

امریکی اخبار کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس پہلی بار ایران سے عراق میں آیا ہے۔ یہ عراق کی سخت کوششیں ہیں کہ اس نے کرونا کی وبا کو قابو میں رکھا اس کے باوجود اب تک 82 اموات ہوچکی ہیں۔

ایران کو دنیا میں کرونا وائرس کے لیے ایک خطرناک ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ عراق نے ایران کے ساتھ اپنی ایک ہزار میل کی سرحد 8 مارچ کو ایرانیوں کے لیے بند کردی اور ایک ہفتہ بعد اس نے ایران میں رہنے والے عراقی شہریوں کو بھی اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی۔

ایران اور عراق کا استحصال

امریکی پابندیوں کے نتیجے میں مایوس کا شکار ہونے والے ایرانی رہ نما تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے اپنی بکھرتی معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں شہروں کو دوبارہ کھول دیا اور ایرانیوں کو کام پر واپس لانے کی کوشش کرنے کے لیے ملک کو بند کرنے کی ریاست کی پالیسی کو ختم کردیا۔

لیکن ایران اور عراق کے مابین تجارت اور آمدورفت بحال نہیں ہوسکی۔ تہران کے لیے اپنی تیل کے سوا دیگر صنعتوں کو مکمل طور پر چلانا مشکل ہوجائے گا۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سرحد ہونے سے قبل عراق ایرانی زرعی مصنوعات ، تعمیراتی مواد ، دودھ کے سامان کے علاوہ مچھلی ، کیکڑے ، اور دیگراشیا کے لیے ایک بڑی منڈی تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایران کا مقصد اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ تجارت کو اگلے دو سالوں میں 20 بلین ڈالر مالیت کا سامان بڑھانا تھا۔ عراق شاید ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار نہیں ہوسکتا ہے ، لیکن اس سے تہران کو درکار ڈالر کی زیادہ سے زیادہ مقدار عراق ہی کے راستے آسکتی ہے۔ ایران عراق کو قدرتی گیس کا ایک بڑا سپلائی کرنے والا ملک ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی بندش سے گیس کی سپلائی بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

اگرچہ سرحد بند ہونے سے گیس کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے مگر دوسری ایرانی مصنوعات ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے عراقی بازاروں میں بڑی مقدار میں نہیں پہنچی ہیں۔

دباؤ کے باوجود عراق کا سرحدیں کھولنے سے انکار

ایرانی حج تنظیم کے سربراہ علی رضا رشیدیان نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ عراق اور ایران کے مابین سرحد کو دوبارہ کھولنے کی منصوبہ بندی شروع ہوگئی ہے لیکن عراقی عہدے دار گھبرا گئے اور فوری تردید جاری کردی۔

عراقی بارڈر کمیشن کے ترجمان علاءالدین القیسی نے کہا کہ ایران اور کویت کے ساتھ ہماری زمینی سرحد ٹریفک اور تجارتی قافلوں کی آمد روفت کے لیے مکمل طور پر بند ہ اور یہ بندش غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔

عراق کے البصرہ شہر سے رکن پارلیمنٹ اور سلامتی ودفاع کمیٹی کے ممبر بدر الزیادی نے کہا کہ عراقی وزارت خارجہ کو سرحدیں کھولنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔