.

غرب اردن کا انضمام اسرائیل کی اپنی صواب دید ہے: امریکی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے کے بیشترعلاقے کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا متنازع فیصلہ اسرائیل کی نئی قومی حکومت کی اپنی صواب دید ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق فوجی سربراہ بینی گینز کے درمیان قومی اتحاد کی حکومت کے لیے طے شدہ معاہدے میں امریکا کے کردار کا بھی ذکر موجود ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ اس کی مشاورت ہی سے مستقبل میں (غربِ اردن سے متعلق) کوئی اقدام کیا جائے گا۔

مائیک پومپیو نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے:’’جہاں تک غربِ اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں حتمی فیصلے اسرائیلی ہی کریں گے اور یہ ایک اسرائیلی فیصلہ ہو گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم ان کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں گے اور نزدیک رہ کر کام کریں گے، نجی مجلس میں ان کے ساتھ اپنے نظریات کا تبادلہ کریں گے۔‘‘

انھوں نے اسی ہفتے نیتن یاہو اور بینی گینز کے درمیان شراکت اقتدار کے لیے طے شدہ ڈیل کو سراہا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران میں اسرائیل میں تین پارلیمانی انتخابات ہوئے ہیں اور کوئی بھی جماعت ان میں حکومت بنانے کےلیے درکار سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی۔

مائیک پومپیو نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’اسرائیل میں چوتھے انتخابات ہمارے خیال میں اس کے بہترین مفاد میں نہ ہوتے۔ہمیں خوشی ہے کہ اس اسرائیل میں اس وقت ایک مکمل حکومت تشکیل پاچکی ہے۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے اوائل میں صدی کی ڈیل کے نام سے اپنا نام نہاد مشرقِ اوسط منصوبہ پیش کیا تھا۔اس میں اسرائیل کو غرب اردن میں قائم یہودی بستیوں اور دوسرے تزویراتی علاقوں کو ضم کرنے کے لیے سبز جھنڈی دے دی گئی تھی۔

نیتن یاہو نے امریکی صدر کے اس منصوبے کو سراہا تھا لیکن ان کے سیاسی حریف بینی گینز نے اس کے بارے میں محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے سمجھوتے کے تحت اسرائیلی کابینہ صدر ٹرمپ کے اس منصوبہ اور یہودی بستیوں سمیت غرب اردن کے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے عمل کا یکم جولائی سے آغاز کرسکتی ہے۔اس میں یہ کہا گیا ہے کہ کوئی بھی اقدام امریکا کے ساتھ مکمل سمجھوتے کے تحت کیا جائے گا۔

فلسطینیوں کے علاوہ یورپی یونین نے امریکی صدر کے امن منصوبے پر کڑی تنقید کی تھی اور یہ کہا تھا کہ اس سے مشرقِ اوسط کے دیرینہ تنازع کے دو ریاستی حل کا دروازہ موثر طور پر بند ہوجائے گا۔

تاہم مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکا فلسطینی علاقوں پر یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی خیال نہیں کرتا ہے۔خود امریکی صدر ٹرمپ بھی ماضی میں ایسا بیان داغ چکے ہیں اور یہ ایک طرح سےان یہودی بستیوں کے بارے میں پوری عالمی برادری کے یکساں موقف سے انحراف ہے۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے 18 نومبر2019ء کو یہ اعلان کیا تھا:’’وہ تمام جانب سے قانونی مباحث کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ غربِ اردن میں قائم اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون سے متصادم نہیں ہیں۔‘‘

امریکا نے اس طرح فلسطینی اراضی پر یہودی آبادکاروں کی بستیوں کے بارے میں گذشتہ چارعشروں سے اختیار کردہ مؤقف سے بھی انحراف کیا تھا۔پہلے امریکا یہ کہتا رہا ہے کہ یہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔امریکا کی غربِ اردن میں یہودی بستیوں کے بارے میں یہ دیرینہ پالیسی 1978ء میں محکمہ خارجہ کی قانونی رائے پر مبنی تھی۔اس نے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی قراردیا تھا۔

یادرہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس سمیت غربِ اردن اور غزہ کی پٹی کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد ان فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں قائم کرنا شروع کردی تھیں۔اسرائیل اپنے تئیں اُن بستیوں کو قانونی قراردیتا ہے جن کی اس نے منظوری دی تھی اور انھیں غیر قانونی قرار دیتا ہے جنھیں یہودی آبادکاروں نے فلسطینی علاقوں میں ازخود ہی تعمیر کرلیا تھا لیکن فلسطینی ،عالمی برادری اور ادارے ان تمام یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔