.

جنرل حفتر کا وفاق حکومت کے سقوط کے لیے عوام سے سڑکوں پر آنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں قومی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ فائز السراج کے زیر قیادت وفاق حکومت کی صدارتی کونسل کے سقوط کے لیے گھروں سے باہر آئیں۔

جمعرات کی شام ایک وڈیو بیان میں حفتر کا کہنا تھا کہ "صدارتی کونسل نے لیبیا میں سیاسی منظر نامے کو انارکی میں بدل ڈالا ہے۔ اس کی بدعنوانی اور ریاست کے خلاف متعدد جرائم کے نتیجے میں ملکی معیشت بدترین شکل پر پہنچ چکی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کونسل نے "لیبیا کے عوام کی عزت نفس کو تار تار کر دیا۔ ملک کی معیشت کو تباہ کر ڈالا اور عوام کے مال کو بے دردی سے لُوٹا۔ اس نے دہشت گرد ملیشیاؤں کو اپنا اتحادی بنایا اور تیل کے وسائل پر قبضہ کیا تا کہ ان کو استعمال میں لا کر قومی فوج سے لڑنے کے واسطے اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا کے کر آ سکے۔ اس کونسل نے ترکی کے استعمار کو ملک پر قبضہ کرنے کی دعوت دے کر غداری کا ارتکاب کیا"۔

جنرل حفتر نے باور کرایا کہ وفاق حکومت کی صدارتی کونسل کی اکڑ اور تفاخر کا سلسلہ زیادہ عرصہ جاری نہیں رہے گی کیوں کہ قومی فوج نے دارالحکومت طرابلس کو آزاد کرانے تک لڑائی جاری رکھنے کا مصمم ارادہ کر رکھا ہے۔

لیبیا کی فوج کے سربراہ کے مطابق موجودہ الم ناک صورت حال میں لیبیا کے عوام کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ سیاسی معاہدہ ختم کرنے اور صدارتی کونسل کے سقوط کے واسطے گھروں سے نکل آئیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ آئندہ مرحلے کی قیادت کے لیے اہلیت کی حامل قیادت کو ذمے داری سونپیں۔ اس طرح آئین کی روشنی میں لیبیا کے عوام کی امیدوں کے عین مطابق شہری ریاست بنانے کے واسطے راہ ہموار ہو گی۔

زمینی طور پر لیبیا کی فوج نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران دارالحکومت طرابلس کے قلب کے نزدیک محاذوں پر پیش رفت کو یقینی بنایا۔ اس کے علاوہ ترکی کے مزید ڈرون طیارے مار گرائے جانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔