.

سعودی عرب : مکہ مکرمہ کے سوا مملکت کے تمام علاقوں میں کرفیو میں جزوی نرمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کرونا کے سبب شہریوں اور غیر ملکی مقیمین کو درپیش قرنطینہ میں نرمی کے لیے بعض اقدامات کی منظوری دی ہے۔ اس سلسلے میں آج چھبیس اپریل بروز اتوار سے مملکت کے تمام علاقوں میں جزوی طور پر کرفیو اٹھا لیا جائے گا۔ تاہم مکہ مکرمہ اور سابقہ طور پر الگ تھلگ کیے گئے علاقوں میں "مکمل" کرفیو رہے گا۔

فیصلے کے تحت بیس رمضان تک صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کرفیو میں نرمی رہے گی۔

سعودی خبر رساں ایجنسی (ایسی پی اے) نے بتایا ہے کہ کرفیو کے اوقات میں نرمی کے دوران صحت کے قواعد و ضوابط کے ساتھ بعض اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ اس کا مقصد سعودی شہریوں اور غیر ملکی مقیمین کے لیے نرمی پیدا کرنا ہے۔ نئے احکامات کے نکات درج ذیل ہیں :

1. اتوار 3 رمضان 1441 ہجری مطابق 26 اپریل 2020 ء سے مملکت کے تمام علاقوں میں صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کرفیو کے اوقات میں نرمی رہے گی۔ یہ نرمی بدھ 20 رمضان 1441 ہجری مطابق 13 مئی 2020 ء تک برقرار رہے گی۔ اس دوران مکہ مکرمہ شہر اور اُن تمام علاقوں میں 24 گھنٹے کرفیو نافذ رہے گا جن کو سابقہ فیصلوں اور بیانات میں الگ تھلگ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

2. سابقہ مستثنی سرگرمیوں کے علاوہ بعض اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں کھولنے کی اجازت ہو گی۔ اس پر عمل درامد کا آغاز بدھ 6 رمضان مطابق 29 اپریل کو ہو گا۔ یہ سلسلہ بدھ 20 رمضان مطابق 13 مئی تک جاری رہے گا۔ اس کا اطلاق درج ذیل پر ہو گا :

- ہول سیل اور ریٹیل کی دکانیں.

- تجارتی مراکز (مالز).

اس سلسلے میں باور کرایا گیا ہے کہ جن مقامات پر جسمانی سمافی فاصلے کو یقینی نہیں بنایا گیا تو وہاں کسی بھی قسم کی سرگرمی پر پابندی جاری رہے گی۔ ان مقامات میں بیوٹی کلینکس، ہیئر کٹنگ سیلونز، اسپورٹس اور ہیلتھ کلبس، تفریحی مراکز، سینیما ہاؤسز، بیوٹی سیلونز، ریستوران، قہوہ خانے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے متعین کردہ دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔

3. کنٹریکٹرز کمپنیوں اور فیکٹریوں کو دوبارہ سے اپنی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان مقامات پر اوقات کی قید کے بغیر کام کی نوعیت کے مطابق سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ اس اجازت کا اطلاق بدھ 6 رمضان مطابق 29 اپریل سے بدھ 20 رمضان مطابق 13 مئی تک ہو گا۔

4. ذمے دار ادارے اقتصادی ، تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں گے۔ اس سلسلے میں وزارت صحت اور مخصوص ادارے احتیاطی تدابیر اور حفاظی اقدامات کی روشنی میں سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے ،،، اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جائے گی۔

5. سماجی فاصلے کے اقدامات کے اطلاق کا جاری رکھنا یقینی بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے سماجی تقریبات اور مواقع پر پانچ سے زیادہ افراد کی شرکت پر پابندی ہو گی۔ ان مواقع میں شادی بیاہ اور تعزیتی مجالس وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح کرفیو میں نرمی کے اوقات میں بھی مقامات عامہ پر اکٹھا ہونے والے افراد کی تعداد محدود رہے گی۔

6. اعلان کردہ ہدایات اور نظام کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اور تنصیبات کو سزا اور بندش کا سامنا ہو گا۔

7. مقررہ مدت کے دوران ان تمام اقدامات کا مسلسل جائزہ لیا جاتا رہے گا۔

شاہ سلمان نے یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ صحت کے حوالے سے صورت حال کی بنیاد پر کرفیو سے متعلق کسی بھی اقدام میں ترمیم کے لیے ،،، وزارت داخلہ متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کے امور سنبھالے گی۔