.

حرمین میں رمضان کے "افطار دسترخوان" کا متبادل کیا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہر سال مسجد حرام میں معتمرین اور زائرین کی ایک بڑی تعداد رمضان مبارک میں حرم شریف کے صحنوں میں افطار کے ایک دسترخوان پر اکٹھا ہوتی تھی۔ خوب صورت روحانی فضا میں ایک ساتھ بیٹھے ہوئے ان افراد کی قومیتیں اور زبانیں مختلف ہوتی تھیں۔ حالیہ رمضان سیکڑوں میٹر طویل اس دسترخوان سے خالی ہے جو مختلف اقسام کی کھجوروں اور آب زم زم کے پیکٹوں سے مزین ہوتا تھا۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے حرمین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے احتیاطی اقدامات کے سلسلے میں رواں سال رمضانی دسترخوان کا اہتمام نہیں کیا۔

اس سال حرم مکی میں رحمن کے دسترخوان نے ،،، مکہ مکرمہ میں مستحق افراد کے درمیان "افطار باسکٹوں" کی تقسیم کے منصوبے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل پریذیڈنسی کے سربراہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے "رمضانی افطار باسکٹس" کی تقسیم کے منصوبے کا آغاز کیا۔ اس منصوبے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے جنرل سکریٹریٹس کا تعاون حاصل ہے۔

مذکورہ منصوبے کے تحت افطار باسکٹس کو مکہ مکرمہ سیکریٹریٹ کے زیر انتظام مہم "بِرّاً بمكة" اور مدینہ منورہ سیکریٹریٹ کے زیر انتظام مہم "خير المدينة" کے ساتھ مل کر تقسیم کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ حرمین کی جنرل پریذیڈنسی ماضی میں اپنا سماجی اور انسانی کردار پورا کرتے ہوئے متعدد منصوبے متعارف کرا چکی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد اس مبارک سرزمین پر شہریوں اور غیر ملکی مقیمین کی سلامتی و راحت کے حوالے سے خادم حرمین شریفین کی شدید خواہش کی تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔