.

حزب اللہ کی لبنانی بنکوں میں چوری کی کہانی، لیرہ 10 ہزار کی طرف گامزن

لبنان میں ڈالر کی قیمت کا اتار چڑھاو' سیاسی'، لیرا کی گراوٹ کی کوئی حد نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ روز لبنان کی سرکاری کرنسی لیرہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر آگئی۔ یہ گراوٹ لبنانی بنکوں کے لیے کسی 'بم حملے' سے کم ہرگرز نہیں۔ کرنسی کے کم ترین سطح پرآنے کے واقعے نے ایک بار پھر لبنان میں 12 جون 2016ء کے واقعے کی یاد تازہ کردی جب باقاعدہ طورپر لبنانی بنکوں کو دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ لبنانی کرنسی میں غیرمعمولی اور غیر مسبوق گراوٹ اپنے ساتھ بہت سی ایسی خبریں اور خدشات بھی لائی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آنے والے دنوں میں ڈالر کے مقابلے میں لبنانی لیرہ کی قیمت مزید گر سکتی ہے۔

کرنسی میں گراوٹ لبنان کے مرکزی بنک کےگورنر ریاض سلامہ اور حزب اللہ دونوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ انہیں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت سے نمٹنے کی خاطربین الاقوامی پروٹوکول پر عمل درآمد کے لیے اپنی پوری وابستگی کا اظہار کرنا ہوگا۔

گذشتہ روز اسی منظرنامے کو دہرایا گیا ہے لیکن اس بار آلات اور ذرائع مختلف تھے اور اعداد و شمار میں واضح تبدیلی دیکھی گئی جب حزب اللہ - امل تحریک جیسی شعیہ تنظیموں نے مرکزی بنک کے گورنر ریاض سلامہ پر دبائو ڈالتے ہوئے موجودہ معاشی اور مالی خرابی کا ذمہ دار گورنر کو قرار دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے لبنانی بینکاری کے شعبے کے باخبر ذرائع نے بتایا کہ در حقیقت دو اہم جماعتوں کا مشترکہ مفاد ریاض سلامہ کو مرکزی بنک کی گورنری کے عہدے سے ہٹانا ہے۔ اس کی درج ذیل وجوہات ہیں۔

سب سے پہلے حزب اللہ چونکہ ریاض سلامہ کی مخالفت اس لیے کرتی ہے کہ اس کے خیال میں تنظیم پرامریکی پابندیوں کے نفاذ میں ریاض سلامہ "کلیدی" کردار کرچکے ہیں۔ حزب اللہ کی کوشش ہے کہ انہیں اس عہدے سے ہٹایا جائے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ریاض سلامہ تنظیم کےلیے معاشی مشکلات کھڑی کررہا ہے اور وہ امریکی پابندیوں کے نفاذ میں امریکا کا دست وبازو بنا ہوا ہے۔

فری پیٹریاٹک موومنٹ (حزب اللہ کا حلیف) ہے۔ یہ تننظیم سے آئندہ صدارتی انتخابات میں موجودہ لبنانی صدر کے داماد جبران باسیل کے مقابلے میں ریاض سلامہ کو ایک مضبوط حریف کی حیثیت سے دیکھتی ہے۔

ڈالر کی "سیاسی قیمت" لیرہ کی 10 ہزار کی کم ترین سطح پرپہنچنے کا خدشہ

لبنان میں جاری سیاسی رسا کشی نے بینکنگ کے نظام اور مالیاتی عمل کو اپنے کھیل کا حصہ بنا دیا ہے۔ مگر اس کھیل کے لبنانی لیرہ پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ زر مبادلہ کی شرح بلیک مارکیٹ میں گرنے کی صورت میں دیکھنے لیرہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 4000 کی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔ اگر موجودہ حالات میں ریاض سلامہ کو مرکزی بنک کے گورنر کے عدےسے ہٹایا جاتا ہےتو اس صورت میں امریکا رد عمل سخت ہوسکتا ہے اور اس کے لبنانی معیشت پر مزید تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر لوئس حبیقہ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ لوگوں میں کرنسی کے مزید گرنے کاخوف پیدا ہوا تو بڑی تعداد میں ڈالر کی خریداری شروع کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر لیرہ کو مزید گرنے سے روکنے کا بندو بست نہ کیا گیا لیرہ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 10 ہزار تک بھی گر سکتی ہے۔