.

یمنی عوام کی سلامتی ہماری اولین ترجیحات میں سے ہے : خالد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے باور کرایا ہے کہ یمن کا امن و استحکام مملکت کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت اس بات کو یقینی بنانے کا خواہاں رہا ہے اور اس نے ہمیشہ اس مقصد کے لیے کام کیا ہے۔

پیر کے روز اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں شہزادہ خالد نے کہا کہ عرب اتحاد میں شامل ممالک جن میں سعودی عرب اور امارات سرفہرست ہیں ،،، یمن میں امن و استحکام اور وہاں حالات دوبارہ سے معمول پر لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پھر سے ریاض معاہدے پر عمل درامد اور آئینی حکومت کی سپورٹ کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں تا کہ برادر یمنی عوام کی خدمت کی جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ریاض معاہدے پر عمل درامد میں جلدی ایک قومی ذمے داری ہے جو معاہدے پر دستخط کرنے والے دونوں فریقین کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔

سعودی نائب وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ "مملکتِ سعودی عرب برادر یمنی عوام کی خاطر تمام تر کوششیں کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ ان کوششوں کا مقصد یمنیوں کے دکھوں کا مداوا کرنا ہے تا کہ وہ ایسے وطن میں محفوظ اور اطمینان سے رہ سکیں جہاں تنازع اور انارکی کی کوئی جگہ نہ ہو۔ اسی واسطے ہم یمنیوں کو تمام تر سپورٹ پیش کر رہے ہیں تا کہ ان کو مطلوب امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے"۔

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد نے جس میں سعودی عرب اور امارات سرفہرست ہیں ،،، پیر کے روز اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ حالات کو سابقہ پوزیشن پر لایا جائے۔ یمن کی جنوبی عبوری کونسل کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے اتحاد کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام کو منسوخ کیا جائے جو ریاض معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہو اور اس پر جلد عمل درامد کی راہ میں حائل ہو۔ عرب اتحاد کے مطابق ریاض معاہدے کو وسیع پیمانے پر بین الاقوامی حمایت اور اقوام متحدہ کی براہ راست سپورٹ حاصل ہے۔