.

شام : شمالی شہرعفرین میں بم دھماکا ، کم سے کم 40 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر عفرین میں ایک آئل ٹینکر پر بم دھماکے کے نتیجے میں 11 بچوں سمیت کم سے کم 40 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے ذرائع کے حوالے سے بم دھماکے کو دہشت گردی کا حملہ قراردیا ہے۔ترکی کی وزارت دفاع نے شام کی کرد ملیشیا وائی پی جی پر اس بم حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

اس نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ عفرین کے وسط میں واقع مصروف علاقے میں تیل کے ایک ٹینکر پر بم دھماکا کیا گیا ہے۔اس نے بم دھماکے کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔اس میں سیاہ دھویں کے بادل بلند ہورہے ہیں اور پس منظر میں ایمبولینس گاڑیوں اور پولیس کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

عفرین پر ترکی کی حمایت یافتہ فورسز کا کنٹرول ہے اور شام کے اس علاقے میں یہ سب سے تباہ کن بم دھماکا ہے۔ترکی ماضی میں وائی پی جی پر ایسے بم دھماکوں کا الزام عاید کرتا رہا ہے جبکہ اس کرد ملیشیا کا کہناہے کہ وہ شہریوں پر اس طرح کے حملے نہیں کرتی ہے۔

ترک حکومت وائی پی جی کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتی ہےاور اس کو ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ آزما کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی اتحادی قراردیتی ہے۔ ترک فوج نے شام کے سرحدی علاقے سے کرد ملیشیا کو پیچھے دھکیلنے کے لیے گذشتہ تین برسوں میں دو بڑی کارروائیاں کی ہیں۔

ترک فوج اور اس کے اتحادی شامی باغی گروپوں نے مارچ 2018ء میں ایک بڑی فوجی کارروائی کے بعد عفرین پر قبضہ کر لیا تھا۔عفرین اور اس کے نواحی علاقوں میں زیادہ تر کردنسل کے لوگ آباد ہیں۔