.

امریکا کی تحدیدات کے بعد لبنانی حزب اللہ کے لیے بڑھتے ہوئے اندرونی سکیورٹی چیلنج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو حالیہ ہفتوں کے دوران میں لبنان اور شام میں پے درپے سکیورٹی واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس گروپ کے بعض ارکان کا کہنا ہے کہ اس نے مالی مسائل سے دوچار ہونے کے بعد لبنان میں اپنی سراغرسانی کی کارروائیاں کم یا محدود کردی ہیں جس کی وجہ سے اس کو اس قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اپریل کے اوائل میں لبنان کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے ایک جنگجو کی کار سے لاش برآمد ہوئی تھی۔اس کو گولی مار کر قتل کیا گیا تھا اور لاش پر چاقو گھونپنے کے بھی نشانات تھے۔حزب اللہ نے اس مقتول کا نام محمد علی یونس بتایا تھا۔اس کی ذمے داری یہ تھی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ معاونت کرنے والوں کا سراغ لگائے۔حزب اللہ نے اس کو شہید قراردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران میں مارا گیا ہے۔

15 اپریل کو اسرائیل نے لبنان کے ساتھ واقع شام کے سرحدی علاقے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی ایک کار ڈرون حملے میں تباہ کردی تھی۔

حزب اللہ کے حسن نامی ایک جنگجو نے بتایا کہ’’ تنظیم نے لبنان میں اپنی بہت سی خفیہ چوکیاں بند کردی ہیں۔ان میں سے بعض کا کام صرف خفیہ معلومات اکٹھا کرنا تھا۔‘‘

امریکا کی پابندیوں کی وجہ سے حزب اللہ کے مالی ذرائع مسدود ہوچکے ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے اپنی پابندیوں میں حزب اللہ سے وابستہ کمپنیوں ، اداروں اور دلال کا کردار ادا کرنے والے افراد کو ہدف بنایا ہے۔شیعہ ملیشیا کی مالی معاونت کے الزام میں لبنان کے متعدد بنک بند ہوچکے ہیں۔ان میں جمال ٹرسٹ بنک بھی شامل ہے۔اس کو 2019 میں بند کردیا گیا تھا۔

ایران پر امریکا کی پابندیوں کی وجہ سے بھی حزب اللہ کے مالی وسائل محدود ہوکر رہ گئے ہیں کیونکہ اس کو ایران بھی خطیر رقم دے رہا تھا لیکن اب خود ایران اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔اوپرسے اس کو کرونا کی وبا کا بھی سامنا ہے اور اس صورت حال میں اس نے حزب اللہ کی فراخدلانہ مالی معاونت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔

تجزیہ کارحنین غدار کے مطابق حزب اللہ نے گذشتہ سال اپنے بہت سے اداروں اور دفاتر کو ایک دوسرے میں ضم کردیا تھا،نئی بھرتی بند کردی تھی اور لبنان بھر میں قریباً ایک ہزار دفاتر اور اپارٹمنٹس کو بند کردیا تھا۔چناں چہ یہی سبب ہے کہ حزب اللہ کی سراغرسانی کی کارروائیاں ماند پڑ چکی ہیں اور اس کو مخالفانہ حملوں کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔

مزید برآں حزب اللہ کے ذرائع کے مطابق تنظیم کے اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈر لبنان سے دور خطے کے دوسرے ممالک میں تعینات ہیں اور خود ملک میں اس کے سکیورٹی حصار ٹوٹ رہے ہیں۔ان کمانڈروں میں سے بعض شام ، بعض عراق اور بعض یمن میں تعینات ہیں اور خود لبنان کا محاذ خالی ہوتا جارہا ہے۔

حزب اللہ کے امور کے ایک ماہر لقمان سلیم کہتے ہیں کہ شیعہ ملیشیا کے لیے امریکا کے عراق میں فضائی حملے میں ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کور کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت تبدیلی کا ایک بڑی واقعہ تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ سلیمانی کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ اپنے بیسیوں جنگجوؤں کو عراق میں ایران نواز دھڑوں کی معاونت کے لیے بھیجنے پر مجبور ہوگئی تھی۔اب اس تنظیم کو مختلف محاذوں پر جنگجو اور کمانڈر بھیجنے کا خمیازہ تو بھگتنا پڑے گا اور اس کے داخلی استحکام کے لیے بھی مضمرات ہوں گے۔

واضح رہے کہ لبنان میں حزب اللہ کا قیام اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ گذشتہ برسوں کے دوران میں اس نے اپنے سیاسی قد کاٹھ میں بھی اضافہ کر لیا ہے اور اپنے پاؤں براعظم جنوبی امریکا کے ممالک تک پسار لیے ہیں۔اس کو لبنان میں فرقہ وار بنیاد پر اہل تشیع اور ان کے اتحادیوں کی حمایت حاصل رہی ہے لیکن اس کے جنگجوؤں نے اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مال ودولت کے انبارلگانا شروع کردیے تھے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہ تنظیم بدعنوانیوں سے آلودہ ہوچکی ہے۔اسی وجہ سے تنظیم کے سکیورٹی حصار میں نقب زنی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

حزب اللہ کے جنگجو حسن کا کہنا ہے کہ''اس وقت جماعت کے اندر ہی بعض گروپوں کے درمیان مسابقت جاری ہے،ہر گروپ کے اپنے پیروکار اور الگ الگ کاروباری سرگرمیاں ہیں۔اس سے لبنان میں جماعتی نظم ونسق پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔حزب اللہ نے علاقائی سطح پر اپنی فوجی قوت کے بل بوتے پر تو دور دور تک پاؤں پھیلا لیے ہیں لیکن اندرونی طور پر وہ خود سکڑ چکی ہے۔''