.

ایران میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کے عہدے کے لیے شدت پسند ارکان میں رسا کشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں رواں سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر کا چنائو عمل میں نہیں لایا جاسکا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمنٹ کے شدت پسند ارکان کے درمیان اسپیکر کے عہدے کے حصول کے لیے کھینچا تانی کا سلسلہ جاری ہے۔

ایران کے اصلاح پسند حلقوں کے مقرب سمجھے جانے والے فارسی اخبار'ابتکار' نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ تہران کے سابق میئر جنرل ریٹائرڈ محمد باقر قالیباف پارلیمنٹ کے اسپیکر کےمنصب کے حصول کے لیے کوشاں ہیں مگر سخت گیر کیمپ انہیں اس عہدے کے حصول میں ناکامی سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ باقر قالیباف کا نام ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے عہدے کےلیے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ رواں سال فروری میں ہونے والے الیکشن سے قبل بھی ان کی پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت پر سوال اٹھائے جاتے رہےہیں۔ اصلاح پسند حلقوں کی طرف سے دستوری کونسل میں بھی قالیباف کی اہلیت سے متعلق سوال اٹھائے گئے۔ خیال رہے کہ ایران کی دستوری کونسل نے 90 فی صد اصلاح پسندوں کی اہلیت سے متعلق فیصلہ کیا تھا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے عہدے کے لیے صرف باقر قالیباف ہی سرگرداں نہیں بلکہ کئی دوسرے عہدیدار جن میں الصمود محاذ کے سربراہ مرتضیٰ آقا تہرانی، سابق وزیر ثقافت مصطفیٰ میر سلیم اور سخت گیر رکن پارلیمنٹ علی رضا زاکانی بھی اس اس عہدے کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر کے امیدواروں میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کے قریبی ساتھی علی نیکزاد اور حمید رضا حاجی بابائی کےدمریان بھی مقابلہ جب کہ ایرانی جورہی توانائی ایجنسی کےسابق چیئرمین فریدون عباسی بھی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے عہدے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

'فرارو' ویب سائٹ کے مطابق قائد ایوان کے عہدے کے لیے اصلاح پسندوں کی طرف سے مسعود بزشکیان کا نام پیش کیا گیا ہے۔ وہ موجودہ پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب پارلیمنٹ کی اسپیکر شپ کے عہدے کے لیے تین سے زاید امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔