.

حوثیوں کی جیلوں میں تشدد اور آبرو ریزی کا نشانہ بننے والی یمنی خواتین کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں خواتین کمیشن کی سربراہ سمیرہ الحوری نے اپنی ان ساتھی خواتین کے گھر کا رخ کیا جو یکے بعد دیگرے غائب ہوتی چلی گئی تھیں۔ سمیرہ نے ان سے روپوشی کی وجوہات کے بارے میں پوچھا تو سب نے مبہم انداز سے ایک ہی جواب دیا کہ "وہ سفر میں تھیں"۔

تاہم سمیرہ نے جلد ہی اس جگہ کا پتہ چلا لیا جہاں ان خواتین کو چھپایا گیا تھا۔ ایک روز حوثی ملیشیا کے 12 ارکان 33 سالہ سمیرہ کو صنعاء میں اس کے گھر سے لے کر چلے گئے۔

سمیرہ کو ایک اسکول کے تہہ خانے میں پہنچا دیا گیا جس کو حوثیوں نے قید خانے میں تبدیل کر دیا تھا۔ یہ گندا قید خانہ گرفتار خواتین سے بھرا ہوا تھا۔ حوثیوں کے تحقیق کاروں نے تین ماہ تک پوچھ گچھ کے دوران سمیرہ کو شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے جسم سے خون ابل پڑا اور اسے بجلی کے کرنٹ کے جھٹکے بھی دیے جاتے۔ سمیرہ کو سزائے موت کی حق دار خواتین کی فہرست میں رکھا گیا تھا تاہم آخری لمحات میں اس کا نام خارج کر دیا گیا۔

حوثی ملیشیا کی جیلوں میں سابقہ طور پر قید یمنی خواتین نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ قید خانوں میں انہیں شدید تشدد اور بعض اوقات عصمت دری کا نشانہ بھی بنایا جاتا تھا۔

یمنی خواتین حوثیوں کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہی ہیں یا پھر بین الاقوامی تنظیموں میں مصروف عمل ہیں۔ باغی ملیشیا اس بات کو اپنے لیے خطرہ شمار کرتی ہے۔

واضح رہے کہ خواتین کی گرفتاری یا ان کی بے حرمتی ایسا امر ہے جس کو یمن کے قبائلی رواج ممنوع شمار کرتے ہیں۔ تاہم حوثیوں نے اس کا ارتکاب کیا۔

انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے اندازوں کے مطابق حوثیوں کے زیر قبضہ صرف ایک صنعاء کے علاقے میں 200 سے 350 خواتین زیر حراست ہیں۔

یمن میں "امن کی خاطر خواتین کے اتحاد" کی سربراہ نورہ الجروی نے حوثیوں کے قید خانوں میں خواتین کی آبرو ریزی کے 33 واقعات کی تصدیق کی ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی نے چھ یمنی خواتین سے گفتگو کی جو قید خانوں سے فرار ہو کر مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچی تھیں۔ ان خواتین نے حوثیوں کی جیلوں میں درپیش سنگین مصائب پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

ان میں تاریخ کی استاد ایک خاتون شامل ہے جس کو دسمبر 2017 میں احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ خاتون کے مطابق تین نقاب پوش حوثی افسران نے اس کو آبرو ریزی کا نشانہ بنایا تھا۔

نورہ الجروی کے مطابق دسمبر 2017 کے بعد سے حوثیوں کی جانب سے گرفتاریوں کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ پہلے وہ اپوزیشن کی خواتین قیادت کو پکڑنے آتے تھے۔ اس کے بعد مظاہرہ کرنے والی خواتین کو گرفتار کیا اور اب حوثیوں کے خلاف بات کرنے والی کسی بھی خاتون کو حراست میں لے لیا جاتا ہے۔

الجروی نے بتایا کہ انہیں جولائی 2019 میں 12 مسلح نقاب پوش پولیس اہل کاروں نے اغوا کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ "مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا میں اسامہ بن لادن ہوں"۔ الجروی کو صنعاء کے ایک مرکزی راستے شارع تعز پر ایک غیر آباد اسکول میں قید کیا گیا۔

ایک اور زیر حراست انسانی حقوق کی کارکن بردیس الصیاغی نے بتایا کہ اس اسکول میں تقریبا 120 خواتین کو قید کیا گیا تھا۔ بردیس ایک شاعرہ ہیں اور انہوں نے حوثیوں کے کریک ڈاؤن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

الحوری اور الصیاغی نے بتایا کہ صنعاء میں فوجداری تحقیقات کے شعبے کے سربراہ سلطان زابین نے بعض راتوں میں اسکول میں قید بعض "خوب صورت لڑکیوں" کو باہر نکالا تا کہ انہیں اپنی شیطانی ہوس کا نشانہ بنا سکے۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ میں سلطان زابین کو اس حراستی مرکز کا سربراہ متعین کیا گیا تھا جہاں خواتین کو آبرو ریزی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

الجروی اور سابقہ گرفتار خواتین کے مطابق خواتین کو حراست میں رکھنے کے لیے کم از کم دو بنگلوں کے علاوہ اپارٹمنٹس، دو ہسپتالوں اور پانچ اسکولوں کو استعمال میں لایا گیا۔

سابقہ سطور میں مذکورہ تاریخ کی استاد کو مارچ 2018 میں رہا کیا گیا۔ اسے ایک سڑک کے کنارے چھوڑ دیا گیا تاہم اس کے گھر والوں نے شرمندگی کے خوف سے اسے دیکھنے سے انکار کر دیا۔

واضح رہے کہ حوثی ملیشیا گرفتار خواتین کو صرف اسی صورت رہا کرتے ہیں جب وہ اپنی سرگرمیاں روک دینے کا وعدہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان خواتین سے جبری طور پر اعترافات ریکارڈ کرائے جاتے ہیں کہ انہوں نے بدکاری اور جاسوسی کی ہے۔

الجوری کے مطابق اب بھی بہت سی لڑکیاں حوثیوں کی جیلوں میں قید ہیں۔ الجوری کا کہنا ہے کہ جب میں سونے کی کوشش کرتی ہوں تو مجھے ان کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ،،، وہ کہتی ہیں کہ "سمیرہ ... ہمیں باہر نکالو"۔