.

حزب اللہ کے پر کاٹنے سے ایران کے تخریبی رویے کو لگام دی جا سکے گی: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر جرمنی کی جانب سے اپنی سرزمین پر حزب اللہ ملیشیا کی تمام تر سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق جرمنی کی جانب سے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دینے کا فیصلہ ممکنہ طور پر ایران کو اس کے تخریبی رویے سے باز رکھ سکتا ہے جو اس وقت خطے کے عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹاگوس نے آج جمعے کو علی الصبح اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "یقینا اس دہشت گرد تنظیم کی مالی رقوم فراہم کرنے کی قدرت پر روک لگانے سے ایران کے عدم استحکام کا سبب بننے والے برتاؤ میں کمی آ سکتی ہے"۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "ہمارے اتحادی جرمنوں نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو کالعدم قرار دے کر شدت کے ساتھ بین الاقوامی دہشت گردی کے راستے میں مزاحمت پیدا کی ہے۔ انہوں نے اس ایران نواز جماعت کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درامد کی صلاحیت پر روک لگا دی ہے"۔

کل جمعرات کو جرمن وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ جرمنی نے اپنی سرزمین پر ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا پر باضابطہ پابندی عائد کر دی ہے اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔

اس اعلان کے بعد جرمن پولیس نے ملک میں موجود حزب اللہ کے اہم ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے ہیں۔

جرمنی اس سے قبل حزب اللہ کے سیاسی بازو اور شام کی حکومت کی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے والے یونٹ کو الگ الگ ڈیل کرتا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمنی کی پارلیمنٹ میں گذشتہ دسمبر میں حزب اللہ پر پابندیوں کا قانون بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا تھا۔