.

سعودی عرب اور یمن کا حزب اللہ کو بلیک لسٹ کرنے کے جرمن فیصلے کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور یمن نے جرمن حکومت کی جانب سے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور ملک میں اس کی سرگرمیوں پرپابندی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے جرمنی کی جانب سے حزب اللہ کے بارے میں تازہ فیصلے پر اپنے رد عمل میں کہا کہ سعودی عرب برلن کے اس اقدام کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتی ہے۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جرمنی کی جانب سے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی اور علاقائی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات میں جرمنی کی طرح جرات مندانہ فیصلے کرکے دنیا کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی امن وسلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گردوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔

درایں اثنا یمن کی حکومت نے بھی جرمنی میں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ یمنی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب للہ کو جرمنی کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پرپابندیاں عاید کرنے کا اعلان درست سمت میں اہم قدم ہے۔ اس فیصلے سے دنیا کو دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ حزب اللہ کی طرح یمن کے حوثی باغی بھی دہشت گرد ہیں جو اپنے شہریوں کا خون خرابہ کرنے کے ساتھ پڑوسی ملکوں کی سلامتی کو بھی نقصان پہنچا رہےہیں۔ عالمی برادری کو حزب اللہ اور حوثی باغیوں کو ایک نظر سے دیکھتے ہوئے دونوں کو دہشت گرد گروہ قرار دینا چاہیے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز جرمنی کی حکومت نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سیاسی بازو کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دے کر جرمنی میں اس کے اثاثے منجمد کرنےکا اعلان کیا تھا۔ امریکا نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔